شامی اپوزیشن گروہ امن مذاکرات میں شرکت پر آمادہ

شام کے مرکزی اپوزیشن گروپ نے پیر کو جنیوا میں شروع ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت پر رضامندی دی ہے۔

خیال رہے کہ اپوزیشن گروہ ایچ این سی نے کہا ہے کہ وہ ان مذاکرات میں شرکت کے لیے کوئی بھی پیشگی شرط نہیں رکھے گا۔ تاہم اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تمام کاموں کا بین الاقوامی قراردادوں کے تحت کیا جانا اہم ہے۔

شام میں جنگ بندی پر عدم اتفاق

روس کی حمایت سے شامی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے بعد گذشتہ بار امن مذاکرات کی کوشش ناکام ہوگئی تھی۔

مشرقِ وسطیٰ کے لیے بی بی سی کے مدیر اعلیٰ سبیسٹین اوشر نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی امن مذاکرات میں شرکت کے لیے جو شرائط ہیں ان میں کچھ ابہام پایا جاتا ہے۔

تاہم دوسری جانب اپنے بیان میں این ایچ سی نے کہا ہے کہ وہ ان مذاکرات میں شریک ہوگا جس کی وجہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے شامی عوام کے بہتے خون کو روکنا اور سیاسی حل تلاش کرنے کا عزم ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ گروہ کوئی بھی پیشگی شرط نہیں رکھ رہا تاہم اس بات پر اصرار زور کیا گیا ہے کہ تمام فریقین انسانیت پسندی پر کیے جانے والے معاہدوں کی پاسداری کریں۔

ایچ این سی کے ترجمان ریاض حجاب نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں کہا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ حکومت جرائم کر رہی ہے اور آنے والے دنوں میں فضائی اور زمینی حملوں کی تیاریاں کر رہی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ شام میں ایک عبوری حکومت جس کے پاس مکمل انتظامی اختیارات ہوں کے قیام کے لیے پورا زور لگائے گی اور اس حکومت میں صدر بشارالاسد اور موجودہ لیڈر شپ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہو گی۔

ادھر روس نے کہا ہے ک وہ توقع رکھتا ہے کہ شامی حکومت ان مذاکرات میں حصہ لے گی تاہم ابھی اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

ہمارے نامہ نگار کےمطابق روزانہ ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں ڈرامائی انداز میں کمی واقع ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ شام کی خانہ جنگی کے باعث گذشتہ پانچ سال کے عرصے میں ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں