جنوبی سوڈان کی فوج نے ’60 افراد کو دم گھونٹ کر مارا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جنوبی سوڈان کی فوج کو انسانی حقوق کے الزامات کا سامنا ہے

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ جنوبی سوڈان کی سرکاری فوجوں نے ایک جہاز کے کنٹینر میں 60 سے زائد مردوں اور نوجوان لڑکوں کو جان بوجھ کر دم گھونٹ کر مار ڈالا۔

محققین کا کہنا ہے کہ انھیں قتل ہونے والے افراد کے ڈھانچے ملے ہیں، جنھیں اُن کے مطابق گذشتہ سال کے اکتوبر میں قتل کیا گیا تھا۔

یاد رہے سنہ 2013 سے اب تک ہزاروں افراد قتل، جبکہ لاکھوں کی تعداد میں لاپتہ ہوچکے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی لاما فاکی کے مطابق ’درجنوں کی تعداد میں لوگوں کو اُس سرکاری فوج کے ہاتھوں بری اور دردناک موت کا سامنا کرنا پڑا، جسے اُن کی حفاظت کرنی چاہیے تھی۔ غیرقانونی قتل کے اس واقعے کی تحقیقات لازمی ہونی چاہییں۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 42 سے زائد عینی شاہدین کے انٹرویو کیے، جن میں وہ 23 افراد بھی شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ انھوں نے دیکھا کہ مردوں اور نوجوان لڑکوں کو جہاز رانی کے کنٹینر میں زبردستی ڈالا گیا اور اُس کے بعد انھوں نے دیکھا کہ یا تو اُن کی لاشوں کو وہاں سے ہٹا دیا گیا یا پھر کسی اجتماعی تدفین کے مقام پر لے جایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سنہ 2013 سے اب تک ہزاروں افراد قتل جبکہ لاکھوں کی تعداد میں لاپتہ ہو چکے ہیں

عینی شاہدین نے بتایا کہ انھوں نے قیدیوں کی چیخ پُکار اور جہاز رانی کے کنٹینر سے اُن کے ٹکرانے کی آوازیں سُنیں۔ جس میں اُن کے مطابق کوئی کھڑکی یا ہوا کے آنے جانے کے لیے کوئی راستہ نہیں تھا۔

ایک خاتون عینی شاہد نے بتایا کہ انھوں نے دیکھا کہ ایک کمانڈر نے باقی بچ جانے والے قیدیوں سمیت کنٹینر کو بند کرنے سے پہلے سپاہیوں کو کنٹینر کو کھول کر اُس میں سے چار لاشیں باہر نکالنے کے احکامات صادر کیے۔

مقتولین کے رشتہ داروں نے ایمنسٹی کو بتایا کہ مقتولین جنگجو نہیں بلکہ چرواہے، تاجر اور طالب علم تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے افریقی یونین (اے یو) سے ایک ہائبرڈ کورٹ کے قیام کا مطالبہ کیا ہے کیوں کہ گذشتہ سال اگست میں جنوبی سوڈان نے ایک امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

اسی بارے میں