لیبیا میں برطانوی کردار پر تنقید، کیمرون برہم

Image caption صدر اوباما کے چند کلمات برطانیہ کو گراں گزرے

امریکہ کے صدر براک اوباما کی طرف سے برطانوی وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس نے ایک وضاحت میں کہا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون امریکہ کے قریبی ساتھی رہے ہیں۔

صدر اوباما نے ایٹلانٹک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ سنہ 2011 میں لیبیا میں مداخلت کے بعد وزیر اعظم کیمرون کی توجہ دیگر امور کی طرف ہو گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ لیبیا کی حالت بدتر ہو گئی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو ایک ای میل پیغام میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ برطانیہ کے کردار کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ ڈاؤننگ سٹریٹ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ لیبیا میں سخت محنت کر رہا ہے۔

جیفری گولڈ برگ نے ایک مضمون میں امریکہ کے عالمی سطح پر کردار کے حوالے سے صدر اوباما کی طرف سے کیے گئے انتہائی مشکل فیصلوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

Image caption صدر اوباما نے فرانس پر بھی تنقید کی

اس مضمون میں انھوں نے فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں سابق صدر معمر قدافی کو حکومت سے علیحدہ کرنے کی کارروائی کے بعد لیبیا میں حالات کے بگڑنے کے اسباب پر روشنی ڈالی ہے۔

صدر اوباما نے کہا کہ ’تنقید کی گنجائش موجود ہے کیونکہ مجھے یورپ پر زیادہ اعتماد تھا، اور میرا خیال تھا کہ وہ لیبیا سے زیادہ قریب ہیں اور وہ اس ملک پر زیادہ توجہ دیں گے۔‘

صدر اوباما نے کہا کہ وزیر اعظم کیمرون کی توجہ دوسرے امور کی وجہ سے بٹ گئی تھی۔

لیبیا کے بارے میں انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم وہاں وسیع پیمانے پر شہریوں کی ہلاکت روکنے میں کامیاب رہے، ہم وہاں ایک طویل اور خونریز خانہ جنگی سے بچنے میں بھی کامیاب رہے لیکن پھر بھی لیبیا میں حالات بہت گمبھیر ہو گئے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ بہت سے خلیجی اور یورپی ملک ایسے بھی تھے جن کا اس سارے بحران میں کچھ لینا دینا نہیں تھا لیکن وہ قدافی کو ہٹائے جانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’گذشتہ کئی دہائیوں سے یہ عادت بن چکی ہے کہ لوگ ہمیں کچھ کرنے کے لیے کہتے ہیں لیکن بعد میں وہ اپنی جان چھڑا لیتے ہیں۔‘

Image caption صدر اوباما نے کہا کہ لیبیا بدترین حالت میں ہے

فرانس کے سابق صدر نکولا سارکوزی بھی اوباما کی تنقید کا نشانہ بنے اور انھوں نے کہا کہ سارکوزی فضائی کارروائی کا شور مچا رہے تھے، باوجود اس کے کہ امریکہ لیبیا کا فضائی دفاعی کا نظام تباہ کر چکا تھا اور زمینی مداخلت کی راہ مکمل طور پر ہموار ہو چکی تھی۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ ’وزیر اعظم کیمرون صدر اوباما کے قریبی ساتھیوں میں رہے ہیں اور ہم قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے اہم اہداف میں برطانیہ کے کردار کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو ہمارے قریبی اور خصوصی تعلقات سے عیاں ہے۔‘

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ صدر کا ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ لیبیا میں سب مل کر بہت کچھ کر سکتے تھے۔

وائٹ ہاؤس کے بیان میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ برطانیہ نے کئی امور میں جرات مندانہ اقدامات کیے ہیں جن میں اپنے دفاعی اخراجات میں دو فیصد کا اضافہ کرنے کا فیصلہ بھی شامل تھا۔

Image caption برطانیہ کا کہنا ہے کہ وہ لیبیا میں حالات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے

اسی مضمون کے مطابق برطانیہ نے یہ فیصلہ صدر اوباما کی طرف سے ڈیوڈ کیمرون کو یہ مشورہ دینے کے بعد کیا تھا کہ اگر برطانیہ امریکہ کے ساتھ اپنے خصوصی تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اس کو اپنے حصے کی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی۔

بی بی سی شمالی امریکہ کے امور کے مدیر جون سپول کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی طرف سے بغیر کسی وجہ سے یہ بیان جاری ہونا ظاہر کرتا ہے کہ برطانیہ نے صدر اوباما کے بیان پر برہمی کا اظہار کیا ہو گا۔

ان کے خیال میں صدر اوباما کی سوچ پر سے ہلکا سا پردہ اٹھا ہے اور وائٹ ہاؤس اس پردے کو جتنی جلدی ہو برابر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں صدر اوباما اور کیمرون کے تعلقات کے بارے میں وائٹ ہاؤس نے جن مثبت پہلوں کا ذکر کیا ہے ان کو اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس میں بیان میں برطانوی مداخلت کا دفاع کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ درست فیصلہ تھا اور لیبیا میں بہت سے مشکل چیلنج درپیش تھے۔

برطانوی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ برطانیہ لیبیا میں اقوام متحدہ کی طرف سے ایک مستحکم اور وسیع البنیاد حکومت قائم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کی بھر پور حمایت کر رہا ہے۔

تجزیہ

دونوں ملکوں کے خصوصی تعلقات نے ماضی میں زیادہ مشکل حالات کا سامنا کیا ہے اور جن کی چند ایک مثالیں نہر سویز کا بحران، ویتنام جنگ، فاک لینڈ کی جنگ اور امریکہ کا گرینیڈا پر حملہ ہیں۔

لہٰذا صدر اوباما کی طرف سے وزیر اعظم برطانیہ کے بارے میں چند ایک شکایتی کلمات سے دونوں ملک کے تعلقات میں کوئی زلزلہ نہیں آنے والا۔

لیکن اس کے باوجود ٹین ڈاؤننگ کےغصے پر کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔

برطانوی وزیر اعظم نے ایک ترجمان نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم ایک ملک کے سربراہ (کرنل قدافی) کو اپنے ملکوں کے لوگوں پر تشدد کرنے اور انھیں ہراساں کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے تھے۔

مسئلہ یہ ہے کہ امریکی صدر اپنے آٹھ سالہ دورِ اقتدار پر نظر ڈال رہے ہیں جبکہ برطانوی وزیر اعظم یورپی یونین میں برطانیہ کے رہنے یا نہ رہنے پر ہونے والے ریفرینڈم کے تناظر میں اپنے مستقل کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

اسی بارے میں