جنسی زیادتیوں کے الزامات، ’امن فوج کے اہلکاروں کی واپسی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اقوام متحدہ کے امن قائم کرنے والے دستے کے خلاف ایک عرصے سے شکایات ہوتی رہی ہیں

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت امن قائم کرنے والے فوجی دستوں کے جن فوجیوں کے خلاف جنسی زیادتیوں کے الزامات ہیں انھیں ان کے ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔

یہ قرارداد جنسی زیادتیوں کی شکایات کے خلاف سکیورٹی کونسل کی جانب سے پہلی بار منظور کی گئی ہے۔

سلامتی کونسل کے 15 ارکان ممالک میں سے 14 ارکان نے اس کی حمایت کی جبکہ مصر نے ووٹنگ میں شرکت نہیں کی۔

اقوام متحدہ کے امن قائم کرنے والے فوجیوں کے خلاف گذشتہ سال بچوں کے ریپ اور دوسری جنسی زیادتیوں کے 69 الزامات سامنے آئے۔ یہ واقعات مبینہ طور پر اقوام متحدہ کے دس مشنز میں ہوئے جبکہ سنہ 2014 کے مقابلے گذشتہ سال جنسی زیادتیوں کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے۔

ملزمان میں فوجی اہلکار، بین الاقوامی پولیس، دوسرے سٹاف اور رضاکار شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے ضابطے کے مطابق اقوام متحدہ کے پرچم تلے کسی جرم کے سلسلے میں جس ملک کے افراد پر الزام عائد کیا جاتا ہے وہی ملک اپنے فوجیوں کے خلاف جانچ اور تادیبی کارروائی کرتا ہے۔

لیکن ایسی صورت میں امن قائم کرنے والی افواج کے خلاف ریپ اور جنسی زیادتی کے الزامات کے سلسلے میں کسی کارروائی میں تاخیر کے لیے اس عالمی ادارے کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

یہ قرارداد امریکہ نے تیار کی ہے اور اس کی توثیق سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کی ہے کہ جس فوجی کے خلاف جنسی زیادتیوں کے باوثوق شواہد ہیں انھیں ان کے ملک بھیج دیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سنٹرل افریکن ریپبلک میں امن و امان قائم کرنے والے فوجی دستوں پر وہاں کے بے گھر بچوں کے خلاف جنسی زیادتیوں کے الزامات لگے ہیں

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کو سب سے زیادہ فوجی امریکہ ہی فراہم کرتا ہے۔

اس قرارداد میں یہ بھی کہا گيا ہے کہ جہاں الزامات کی باضابطہ جانچ نہیں ہوتی وہاں کے دستے کو بدل دیا جائے۔

مصر نے اخیر لمحے میں قرارداد میں ترمیم چاہی کہ اس میں یہ شامل کیا جائے کہ ایسی صورت میں پورے ہی فوجی دستے کو واپس بھیج دیا جائے لیکن امریکی سفیر سامنتھا پاور نے کہا کہ اس سے قرارداد کمزور ہو جائے گا۔

اس ترمیم کی انگولا، روس، چین، وینزوئیلا نے حمایت کی لیکن یہ ترمیم اس لیے شامل نہیں ہو سکی کہ اسے ضروری نو ممالک کی حمایت حاصل نہ ہو سکی۔

بعض ممالک نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ ایسے میں جس فوجی نے کوئی غلطی نہیں کی ہے وہ بھی اس مجموعی سزا کی زد میں آکر متاثر ہو سکتا ہے۔

گذشتہ سال سنٹرل افریکن ریپبلک (سی اے آر) کے باباکار گای کو جنسی زیادتیوں کی کئی شکایات کے بعد معطل کر دیا گيا تھا۔

سنہ 2014 میں سی اے آر میں امن و امان قائم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے پرچم تلے دس ہزار مضبوط فوجی تعینات کیے گئے تھے جن پر بے یارو مددگار بچوں کے خلاف جنسی زیادتیوں کے الزام لگے تھے۔

اسی بارے میں