’پیغمبرِ اسلام کی توہین‘ پر مصری وزیر برطرف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احمد الزند اخوان المسلمین کے بڑے ناقد ہیں

مصر میں وزیرِ انصاف احمد الزند کو پیغمبرِ اسلام کی توہین کے الزام میں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

انھوں نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ ’اگر نبی بھی قانون توڑیں گے تو میں انھیں بھی جیل میں ڈالوں گا۔‘

گو کہ انھوں نے اسی روز یہ کہتے ہوئے معافی مانگ لی تھی کہ ’خدا مجھے معاف کرے۔‘ تاہم انھیں ملک کے وزیرِ اعظم شریف اسمٰعیل نے ان کے عہدے سے برطرف کیا۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی جگہ کون لے گا۔ احمد الزند اخوان المسلمین کے بڑے ناقد ہیں۔

وزیرِ اعظم کے دفتر سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں احمد الزند کی عہدے سے برخاستگی کا ذکر ہے تاہم مزید کوئی تفصیل نہیں جاری کی گئی۔

مصر میں ججوں نے احمد الزند کی برخاسگتی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’الفاظ ان کہ منہ سے غلطی سے نکل گئے جو کسی سے بھی ہو سکتا ہے۔‘

ججز کلب کے سربراہ عبداللہ فتح کا کہنا تھا ’مصر کے ججوں کو افسوس ہے کہ ایک شخص جو مصر اور اس کے لوگوں کا دفاع کرتا ہے اسے اس انداز میں سزا دی جا رہی ہے۔‘

احمد الزند اپیل کورٹ کے سابق جج ہیں اور وہ سابق صدر حسنی مبارک کو معذول کرنے والی اسلامی تحریک کے خلاف کھلے عام تنقید کرتے رہے ہیں۔

انھوں نے حسنی مبارک کے تیس سالہ اقتدار کا خاتمہ کرنے والے انقلاب پر تنقید کی اور ان اتخابات کی نگرانی بھی کی جس کے بعد اخوان المسلمین برسرِ اقتدار آئی۔

وہ عدلیہ اور اس کی مضبوط پوزیشن کا دفاع کرنے والوں میں شامل رہے ہیں۔

مصر کی عدالتیں مبارک دور کے اہلکاروں کو بری کر رہی ہیں جبکہ لبرل اور اسلامی کارکنوں کو لمبی سزائیں سنا رہی ہیں۔

مصر کی عدالتوں پر اس سے پہلے انسانی حقوق کے گروہوں نے تنقید کی تھی جب انھوں نے بڑے پیمانے پر اخوان المسلمین کے حامیوں کو سزائے موت سنائی جن میں نوجوان کارکن، مصنف اور صحافی شامل تھے۔

احمد زند کے پیش رو کو گذشتہ برس مئی میں یہ کہتے ہوئے جبری مستعفی کروا دیا گیا تھا کہ ایک کوڑا چننے والے کا بیٹا جج بننے کا اہل نہیں ہے۔

اسی بارے میں