’نادانستگی میں اسامہ کی مدد کر بیٹھا‘

Image caption بابر احمد نے ایک ویب سائٹ بنائی تھی جس پر طالبان کی حمایت میں مضامین شائع ہوتے تھے

ایک برطانوی شخص، جنھیں طالبان کی ویب سائٹ بنانے کے جرم میں جیل بھیج دیا گیا تھا، کہا ہے کہ انھوں نے طالبان کی حمایت کر کے ’سادہ لوحی‘ کا مظاہرہ کیا تھا۔

رہائی کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں 41 سالہ بابر احمد نے کہا ہے کہ انھوں نے ’نادانستگی‘ میں اسامہ بن لادن کی حمایت کی تھی۔

بابر احمد کو آٹھ برس تک ملک بدری کا مقدمہ لڑنے کے بعد 2014 میں امریکہ میں جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔

انھوں نے خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کو اپنے ثقافتی ورثے اور عقائد کے لیے ’اجنبی‘ قرار دیا۔

2014 میں آئی ٹی کے ماہر بابر احمد نے امریکہ میں دہشت گردی میں مدد فراہم کرنے کے دو الزامات میں اقبالِ جرم کر لیا تھا۔

بابر نے 97-1996 میں لوگوں کو جہاد کے لیے راغب کرنے والی ویب سائٹ عظام پبلیکیشنز بنائی تھی جس پر شائع ہونے والے دو مضامین میں مسلمانوں کو ترغیب دی گئی تھی کہ وہ طالبان کو رقم اور سامان بھیجیں۔

امریکی جج جینیٹ ہال نے کہا کہ بابر احمد نے ویب سائٹ بنانے پر گہری پشیمانی کا اظہار کیا ہے، لیکن انھوں نے کہا: ’آپ اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ آپ اسامہ بن لادن کو افغانستان میں محفوظ رکھنے میں مدد دے رہے تھے۔‘

بابر نے کہا کہ انھوں نے اسامہ بن لادن کو ’نادانستگی‘ میں مدد دی اور اس وقت وہ نہیں جانتے کہ القاعدہ کے رہنما دراصل کیا ہیں۔

انھوں نے کہا: ’تکنیکی طور پر ہاں، طالبان کی جانب سے اسامہ کو امریکہ کو دینے سے انکار کا مجھے علم نہیں تھا، اور یہ کہ نائن الیون کے واقعے پیچھے اسامہ کا ہاتھ تھا۔

’میں نے یہ سب کچھ اچھی نیت سے کیا، لیکن اب پیچھے مڑ کر دیکھنے کے بعد مجھے افسوس ہے کہ یہ میری سادہ لوحی تھی، کیوں کہ یہ ایک پیچیدہ صورتِ حال تھی۔ اس وقت جو کچھ ہو رہا تھا میں نے اس میں ان کی مدد کی وکالت نہیں کی۔‘

برطانوی حکام نے بابر پر کبھی فردِ جرم عائد نہیں کی لیکن وہ امریکی قانون کی رو سے دہشت گرد تھے۔

احمد کو 12 برس کی قید ہوئی تھی اور انھیں جون 2015 میں رہا کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں