شکست کے باجود پالیسی تبدیل نہیں ہوگی: میرکل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ن انتخابات کو انگیلا میرکل کی’اوپن ڈور‘ پالیسی کا امتحان قرار دیا جا رہا تھا

جرمن کی حکومت کا کہنا ہے کہ تین ریاستوں میں سے دو میں دائیں بازو کی کامیابی کے باوجود تارکین وطن سے متعلق حکومت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

یاد رہے کہ جرمنی میں تارکین وطن کی آمد کی مخالف دائیں بازو کی جماعت ’جمہورت کا بدل‘ یا آلٹرنیٹو فار ڈیموکریسی ریاستی انتخابات کی مہم میں انگیلا میرکل کے اس ’تباہ کن‘ فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے جس کے تحت حکومت نے گذشتہ برس دس لاکھ تارکین وطن کو اپنے ہاں بخوشی آنے کی اجازت دی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایگزٹ پولز کے مطابق اے ایف ڈی کو ملک کے کچھ علاقوں میں برتری حاصل ہے لیکن اس کی یہ برتری صرف مک کے مغربی علاقوں تک محدود ہے۔

ان انتخابات کو چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجرین کے بارے میں ’اوپن ڈور‘ پالیسی کا امتحان قرار دیا جا رہا تھا۔

ایگزٹ پولز کے مطابق اینگیلا میرکل کی کرسچیئن ڈیموکریٹ پارٹی ملک کے مشرقی علاقے سیکسنی اینہالٹ میں سب سے بڑی جماعت کی حیثیت برقرار رکھ پائی ہے تاہم اسے باڈن ورٹمبرگ اور رائن لینڈ پالیٹینیٹ میں شکست ہوئی ہے۔

مہاجرین کی آمد کی مخالف جماعت ’آلٹرنیٹیو فار جرمنی‘ (اے ایف ڈی) ان انتخابات میں تینوں ریاستوں میں ماضی کے مقابلے میں کامیاب رہی ہے۔

2015 میں جرمنی میں دس لاکھ سے زیادہ مہاجرین اور پناہ گزین داخل ہوئے ہیں۔

جائزوں کے مطابق اے ایف ڈی کو سیکسنی کے علاقے میں 19 فیصد حمایت حاصل ہے جہاں اس وقت سی ڈی یو اور سوشل ڈیموکریٹوں کی اتحادی حکومت قائم ہے۔

اگر اے ایف ڈی نے انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو اتحادیوں کو اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے ایک اور اتحادی کی ضرورت پڑے گی۔

اے ایف ڈی کو جرمنی کی 16 علاقائی پارلیمانوں میں پہلے ہی سے پانچ میں نمائندگی حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 2015 میں جرمنی میں دس لاکھ سے زیادہ مہاجرین اور پناہ گزین داخل ہوئے ہیں

حالیہ انتخابات انھوں نے اس نعرے پر لڑے ہیں کہ ’سرحدوں کو محفوظ بنا دو‘ اور ’پناہ دینے کا ہنگامہ بند کرو۔‘

حکمران جماعت سی ڈی یو کو ملک کی مغربی ریاست باڈن ورٹیمبرگ میں ماضی میں سب سے بڑی جماعت رہی ہے تاہم اس بار عوامی جائزے کے مطابق جماعت کی حمایت میں 27 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔

سی ڈی یو اور سوشل ڈیموکریٹس کی اتحادی حکومت والی قدرے غریب مشرقی ریاست سیکسینی اینہالٹ میں امید کی جارہی ہے کہ یہ اتحاد حکومت میں برقرار رہنے میں کامیاب رہے گا تاہم انتخابی جائزوں کے مطابق آلٹرنیٹو فار ڈوچ لینڈ (اے ڈی ایف) 22 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

اے ایف ڈی کو جرمنی کی 16 علاقائی پارلیمانوں میں پہلے ہی سے پانچ میں نمائندگی حاصل ہے۔ حالیہ انتخابات انھوں نے اس نعرے پر لڑے ہیں کہ ’سرحدوں کو محفوظ بنا دو‘ اور ’پناہ دینے کا ہنگامہ بند کرو۔‘

دوسری جانب سی ڈی یو کی جیت کی توقع کے بر عکس سوشل ڈیموکریٹس کی رائن لینڈ پالیٹینیٹ پر گرفت برقرار ہے۔

جرمنی کے نائب چانسلر سگمار گیبریئل نے سنیچر کو کہا تھا کہ اے ایف ڈی کی کامیابی سے ان کی حکومت کی پناہ گزینوں کے بارے میں موقف میں تبدیلی نہیں آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری ایک واضح پالیسی ہے جس پر ہم قائم ہیں، انسانیت اور یک جہتی۔ اب ہم اپنی یہ پالیسی تبدیل نہیں کریں گے۔‘

اسی بارے میں