روسی صدر پوتن کا شام سے فوج واپس بلانے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption روس شام میں صدربشار الاسد کا اہم اتحادی ہے اور روس کا کہنا ہے فوجوں کے انخلا کے بارے میں انھیں مطلع کر دیا گیا ہے

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے اپنی فوج کے ’مرکزی حصے‘ کو شام سے انخلا کا حکم دیا ہے اور اسے ایک غیرمتوقع اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

انخلا کا یہ عمل منگل سے شروع ہوگا اور روسی صدر کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کی شام میں اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں۔

روسی صدر کی جانب سے شام سے افواج کے انخلا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت جنیوا میں شام میں جاری پانچ سالہ خانہ جنگی کے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔

روس شام کے صدر بشار الاسد کا اہم اتحادی ہے اور شامی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے سے متفق ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجوں کا انخلا ’زمینی صورتحال سے مطابقت رکھتا ہے۔‘

ستمبر 2015 میں روس کی شام کی خانہ جنگی میں مداخلت سے اس جنگ میں شامی حکومت کا پلڑا بھاری ہوگیا تھا اور اس کے بعد حکومتی افواج نے باغیوں کے قبضے سے کئی علاقے چھڑوائے تھے۔

کریملین میں ایک اجلاس کے دوران روسی صدر پوتن کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں وزارت دفاع اور مسلح افواج کو جو مشن سونپا گیا تھا وہ مکمل کر لیا گیا ہے۔‘

’چنانچہ میں وزارت دفاع کو حکم دیتا ہوں کہ وہ کل سے فوج کے مرکزی حصے کو عرب جمہوریہ شام سے واپس بلانا شروع کر دیں۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ شامی صوبے لاذقیہ میں روس کے ہمیمم ایئربیس اور بحیرۂ روم میں طرطوس میں اس کا بحری اڈے پر سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption روس شام میں اپنی فوجی کارروائیوں کے بارے میں دعویٰ کرتا رہا ہے کہ وہ صرف دہشت گرد تنظیموں کو نشانہ بنا رہا ہے

ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں اثاثوں کی ’زمین، فضا اور سمندر‘ سے تحفظ کیا جائے۔

روس شام میں اپنی فوجی کارروائیوں کے بارے میں دعویٰ کرتا رہا ہے کہ وہ صرف دہشت گرد تنظیموں کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ مغربی طاقتیں یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ روس بشارالاسد کے مخالفین کو نشانہ بنا رہا ہے۔

شام کی حزبِ اختلاف بھی نے روس کے اس اعلان کا محتاط خیرمقدم کیا ہے۔ حزبِ مخالف کی جماعتوں کے گروپ کے ترجمان سلیم المصلات نے کہا ہے کہ ’اگر انخلا کے اعلان پر عمل درآمد میں سنجیدگی پائی جاتی ہے تو یہ مذاکرات کے لیے مثبت ہوگا۔‘

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ایلچی برائے شام سٹیفن ڈی میستورا نے حالیہ امن مذاکرات کو ’سچ کا لمحہ‘ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوجاتے ہیں تو کوئی ’پلان بی‘ نہیں ہے اور جنگ کی جانب واپس لوٹنا ہی اس کا متبادل ہوگا۔

خیال رہے کہ شام میں فریقین کے درمیان جنگی بندی کا معاہدہ گذشتہ ماہ کے اواخر میں طے پایہ تھا تاہم تمام اس معاہدے کی کچھ خلاف ورزیوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

حالیہ اطلاعات کے مطابق شام کی حکومتی فوجوں نے قدیم تاریخی شہر پلمائرہ کے قریب شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ ٹھکانوں کی جانب پیش قدمی کی ہے۔

اسی بارے میں