ریاضی پڑھانے کا طریقہ سیاسی مسئلہ کیوں؟

Image caption یہ ویڈیو ایک کروڑ 70 لاکھ دفعہ دیکھی جاچکی ہے

امریکہ میں وائرل ہونے والی ایک حالیہ ویڈیو سے پتہ چلتا ہے کہ تعلیم اس انتخابات کے سال میں ایک اہم مسئلہ کیوں بن گیا ہے۔

امریکہ میں متعارف کروائے گئے ایک نئے پروگرام جسے ’کامن کور‘ کہا جاتا ہے کے تحت متبادل طریقے سے ریاضی کا مضمون پڑھایا جا رہا ہے جس کے باعث ریاضی پڑھانے کا طریقہ سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔

امریکہ کی مختلف ریاستوں میں تعلیمی نظام یکساں نہیں ہے۔ اس میں یکسانیت لانے کی خاطر کامن کور کا نظام لایا گیا ہے۔

لیکن کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ریاضی کے مضمون کو مشکل اور پیچیدہ بنانے کا باعث بن رہا ہے۔

سماجی رابطوں کی سائٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں ایک خاتون ریاضی کے ایک سوال کو روایتی طریقے سے حل کرتی ہیں اور پھر بتاتی ہیں کہ اگر اس کو کامن کور کے مطابق حل کیا جائے تو یہ کتنا پیچیدہ ہوگا۔

یہ ویڈیو ایک کروڑ 70 لاکھ دفعہ دیکھی جاچکی ہے۔

اب تک اس ویڈیو پر ہزاروں لوگ کمنٹ کر چکے ہیں۔

سماجی رابطوں کی سائٹ پر ایک صارف نے کمنٹ کیا ہے کہ ’ یہ دیکھ کر میرا دل کرتا ہے کہ میں اپنے بچے کو گھر پر ہی تعلیم دوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ریپبلکن پارٹی کا صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں شامل تمام امیدواروں نے کامن کور کی مخالفت کی ہے

جبکہ ایک اور کمنٹ میں لکھا گیا ہے ’یہ کامن کور نہیں ہے بلکہ کوئی اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔‘

خیال رہے کہ ’سٹراٹزلہ‘ جنھوں نے یہ ویڈیو اپ لوڈ کی ہے وہ قدامت پسند ہیں اور اس موضوع پر کئی ویڈیوز بنا چکی ہیں۔

کامن کور کا نظام سنہ 2009 میں صدر اوباما کے دورِ حکومت میں متعارف کروایا گیا تھا۔

ریپبلکن پارٹی کا صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں شامل تمام امیدواروں نے کامن کور کی مخالفت کی ہے۔ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے تو اسے تباہی قرار دیا ہے۔

اس نظام کے حامی ماہرین کا کہنا ہے کہ جو والدین کامن کور کی مخالفت کرتے ہیں وہ دراصل اس بات پر ناراض ہیں کہ ان کے بچوں کو اس طریقے سے کیوں نہیں پڑھایا جا رہا جس طرح ان کو پڑھایا جاتا تھا۔

لیکن کچھ ماہرین کا موقف مختلف ہے۔ سٹینفرڈ یورنیورسٹی کے پروفیسر جیمز ملگرام کا کہنا ہے کہ ’ دنیا کے مختلف ممالک میں روایتی طریقے سے ریاضی پڑھائی جاتی ہے اور وہاں طلبا بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں