برسلز میں فائرنگ کے تبادلے میں ایک مشتبہ شخص ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بیلجیئم میں پولیس حکام شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے نیٹ ورک کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں سکیورٹی فورسز کے ایک چھاپے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک مشتبہ حملہ آور ہلاک ہوگیا ہے جبکہ پولیس حکام دو مشتبہ افراد کو تلاش کر رہے ہیں۔

منگل کو چھاپے کے دوران فائرنگ سے کم سے کم چار سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں جس میں ایک کی حالت تشویشناک ہے۔

پولیس نے برسلز کے مضافاتی علاقوں کو اپنے حفاظتی حصار میں لے لیا ہے۔

سرکاری وکیل کا کہنا ہے کہ پولیس کا یہ چھاپےگذشتہ برس پیرس میں ہونے والے حملے کی تحقیقات کی ایک کڑی ہے۔ پیرس میں شدت پسندوں کے حملے میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

بیلجیئم میں پولیس حکام شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے نیٹ ورک کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

منگل کو ہونے والے واقعے کے بعد پولیس کا کہنا ہے کہ وہ دو مشتبہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں جو چھت پر سے فرار ہوئے ہیں۔

استغاثہ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ سہ پہر کو کی گئی ریڈ کے دوران پولیس پر فائرنگ کی گئی۔

برسلز میں مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے پولیس کا بڑا آپریشن جاری ہے اور فضا میں ہیلی کاپٹر بھی پرواز کر رہے ہیں۔

Image caption پیرس میں حملوں کی تحقیقات کے بعد سے بیلجیئم میں 11 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور آٹھ افراد حراست میں ہیں

خبر رساں ادارے روائٹر نے فرانسیسی وزیر داخلہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ برسلز میں پولیس کے چھاپے میں فرانسیسی پولیس کے اہلکار بھی شامل تھے۔

گذشتہ سال نومبر میں پیرس میں ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں میں ملوث اکثر شدت پسندوں کی نشاندہی ہوگئی ہے اور زیادہ تر مشتبہ افراد یا تو حملوں کے دوران ہلاک ہوگئے اور بعض پولیس کی ریڈ میں مارے گئے۔

لیکن دو مشتبہ افراد صلاح عبداسلام اور محمد عبرانی تاحال مفرور ہیں۔

پیرس میں حملوں کی تحقیقات کے بعد سے بیلجیئم میں 11 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور آٹھ افراد حراست میں ہیں۔

اسی بارے میں