دولت اسلامیہ کے کمانڈر شیشانی کی ہلاکت کی تصدیق

تصویر کے کاپی رائٹ YouTube
Image caption گذشتہ سال امریکہ نے شیشانی کے سر کی قیمت 50 لاکھ ڈالر رکھی تھی

امریکی وزارت دفاع نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ایک سینیئر کمانڈر عمر شیشانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

پینٹاگون میں حکام کا کہنا ہے کہ عمر شیشانی کی ہلاکت شمال مشرقی شام میں حالیہ امریکی فضائی حملوں کے نتیجےمیں شدید زخمی ہونے کے بعد ہوئی۔

ابتدائی خبروں میں اس بات کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ جارجیا سے تعلق رکھنے والے شیشانی جن کا اصل نام ترکان باتراشویلی ہے اس حملے میں بچ گئے ہیں۔

اس حملےمیں ان کے کئی محافظ بھی ہلاک ہوگئے ہیں جو حملے کے وقت ان کے ساتھ موجود تھے۔

امریکی فضائیہ کا یہ حملہ چار مارچ کو شام کے شمال مشرقی علاقے شدادی میں اس وقت کیا گیا جب عمر شیشانی وہاں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تربیت کے لیے موجود تھے۔

پینٹاگون کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ شیشانی ہلاک ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption علاج کے لیے انھیں رقہ لے جایا گیا تھا جو کہ جنگجو تنظیم کا گڑھ کہا جاتا ہے

شام کے حالات پر نظر رکھنے والے نگراں گروپ سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے اتوار کو کہا تھا کہ شیشانی کی طبی موت کئی دن پہلے ہی واقع ہوچکی تھی۔

گذشتہ سال امریکہ نے شیشانی کے سر کی قیمت 50 لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔

بیان کے مطابق شیشانی دولت اسلامیہ میں کئی اہم اور سینیئر عہدوں پر کام کر چکے تھے جن میں وزیر جنگ کا عہدہ بھی شامل ہے۔

گذشتہ ہفتے نگراں گروپ کے ڈائرکٹر رامی عبدالرحمان نے ذرائع کے حوالہ سے بتایا تھا کہ حملے میں شیشانی کے شدید زخمی ہونے کے بعد انھیں رقہ کے ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کا علاج ایک یورپی نژاد جہادی ڈاکٹر نے کیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کو یقین ہے کہ شیشانی کو دولت اسلامیہ کی حالیہ سلسلہ وار شکستوں کے پیش نظر شدادی کے علاقے میں جنگجوؤں کی ہمت بڑھانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

گذشتہ ماہ ایک عرب باغی گروپ سیرین عرب کوالیشن نے شدادی پر قبضہ کرلیا تھا جو کہ کرد جنگجو گروپ وائی پی جی کے ساتھ مل کر دولت اسلامیہ کے خلاف لڑ رہا ہے۔

اسی بارے میں