اسرائیلی سیاح نے نایاب سکہ ڈھونڈ نکالا

تصویر کے کاپی رائٹ Israel Antiquities Authority
Image caption یہ سکہ شہنشاہ ترجان کے بنائے ہوئے سکوں کے سلسلے کا حصہ ہے

ایک اسرائیلی سیاح کو رومی دور کا تقریباً دو ہزار سال پرانا سکہ ملا ہے جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ دنیا میں اس قسم کا صرف ایک اور سکہ ہی موجود ہے۔

107 بعد از مسیح دور کے اس سکے پر رومی شہنشاہ آگستس کی تصویر ہے جسے شہنشاہ ترجان نے بنوایا تھا۔

اس قسم کا دوسرا سکہ برطانیہ کے ایک عجائب گھر میں محفوظ ہے۔

رائمن جو اسرائیل کے ایک سیاحتی گروپ کی رکن ہیں، اپنے دوستوں کے ساتھ شمالی گلیلی کے علاقے میں گھوم رہی تھیں کہ ان کو گھاس پر کوئی چمکتی ہوئی چیز نظر آئی۔

سکہ دریافت کرنے کے بعد گروپ گائیڈ نے اسرائیل کے محکمۂ نواردات (آئی اے اے) سے رابطہ کیا، اور آئی اے اے کی ٹیم دو گھنٹے کے اندر وہاں پہنچ گئی۔

رائمن نے سکہ حکام کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سکے سے الگ ہونا اتنا آسان نہیں تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’آپ کو روز روز ایسی کمال کی چیز نہیں ملتی، لیکن مجھے امید ہے کہ میں اسے جلد ہی میوزیم میں رکھا ہوا دیکھوں گی۔‘

اسرائیل کے محکمہ نواردات کا کہنا ہے کہ سیاح لاری رائمن کو ایک اچھی شہری ہونے کا ثبوت دینے پر خراج تحسین کا سرٹیفیکیٹ پیش کیا جائے گا۔

آئی اے اے کے ماہر ڈینی سیون کا کہنا ہے کہ یہ عالمی سطح پر نایاب حیثیت رکھنے والی نشانی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ سکہ شہنشاہ ترجان کے بنائے ہوئے سکوں کے اس سلسلے کا ایک حصہ ہے جسے انھوں نے اپنے پیش رو بادشاہوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے شروع کیا تھا۔‘

آئی اے اے کا کہنا ہے کہ عوام جلد ہی اس نایاب دریافت کا نظارہ کر سکیں گے۔

اسی بارے میں