نائجیریا کی قومی آئل کمپنی 16 ارب ڈالر کی نادہندہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قانون کے تحت تیل کی سرکاری کمپنی کو اپنی ساری آمدنی لازمی طور پر حکومت کے خزانے میں جمع کرانا ہوتی ہے

نائجیریا میں سرکاری آڈٹ کے مطابق کی سرکاری آئل کمپنی حکومت کو 16 ارب ڈالر کی ادائیگی میں ناکام رہی ہے۔

آڈیٹر جنرل نے ارکانِ پارلیمان کو بتایا ہے کہ نائجریئن نیشنل پیٹرولیئم کارپوریشن (این این پی سی) نے اس بارے میں کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔

نائجیریا میں سابق مشیر پر دو ارب ڈالر کی چوری کا الزام

تیل کی سرکاری کمپنی 2014 میں حکومت کو 16 ارب ڈالر سے زیادہ کی آمدنی منتقل کرنے میں ناکام رہی۔

نائجیریا نیشنل پیٹرولیم کارپوریشن کا فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں آیا۔

قانون کے تحت تیل کی سرکاری کمپنی کو اپنی ساری آمدنی لازمی طور پر حکومت کے خزانے میں جمع کرانا ہوتی ہے۔

نائجیریا کے موجودہ صدر موحامادو بوہاری کا کہنا ہے کہ کرپشن کی روک تھام ان کی اولین ترجیح ہے اور حالیہ مہینوں کے دوران کرپشن کے الزام میں کئی سرکاری افسروں کے خلاف تحقیقات شروع ہوئی ہیں۔

تیل کی سرکاری کمپنی پر حالیہ برسوں میں بدعنوانی اور رقوم کی عدم ادائیگی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

گذشتہ ماہ حکومت نے اعلان کیا تھا کے این این پی کو تؤڑ کر ساتھ مختلف کمپنیاں بنائی جائیں گی۔

نائیجریا کے مرکزی بینک کے سابق گورنر کو یہ کہنے پر عہدے سے برخاست کر دیا گیا تھا کہ سنہ 2013 میں تیل کی آمدنی کا 20 ارب ڈالر ادا نہیں کیا گیا۔

سابق صدر گڈ لک جوناتھن کے حکم پر کیے گئے ایک آڈٹ میں پتہ چلا تھا کہ سرکاری کمپنی نے جنوری 2012 سے جولائی 2013 کے دوران 1.48 ارب ڈالر حکومت کو ادا نہیں کیے۔

نائجیریا افریقہ میں تیل پیدا کرنے والے سب سے بڑا ملک ہے تاہم تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث اس کی معشیت مشکلات کا شکار ہوئی ہے۔

اسی بارے میں