شام میں روسی افواج کے انخلا اور جنگی طیاروں کی بمباری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام سے روسی افواج کی واپسی کے باوجود شامی صوبے لاذقیہ میں روس کا ہمیمم ایئربیس کام کرتا رہے گا

شام کی افواج کی مدد کے لیے روس کے جنگی جہازوں نے پیلمائرا میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ دولتِ اسلامیہ نے ایک سال قبل اس تاریخی علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

دوسری جانب روسی صدر ولادی میر پوتن کے احکامات پر شام سے روسی فوج کے انخلا کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جبکہ امریکہ نے کہا ہے کہ دیکھنا ہو گا کہ روس کے اصل ارادے کیا ہیں۔

روسی صدر نے پیر کو غیر متوقع طور پرشام سے روسی افواج کے ’مرکزی حصے‘ کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے ملک نے شام میں اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں۔

روس کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ شام میں فضائی کارروائیوں میں شریک روسی طیاروں کی پہلی ٹکڑی واپس روس روانہ ہوگئی ہے۔

اس سے قبل روس کے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے مناظر میں شام میں موجود عسکری سازوسامان کو طیاروں پر لادتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

روسی حکام کے مطابق شام سے روسی افواج کی واپسی کے باوجود شامی صوبے لاذقیہ میں روس کے ہمیمم ایئربیس اور بحیرۂ روم میں طرطوس میں بحری اڈے پر سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

امریکی حکام نے روس کے جزوی فوجی انخلا کے اعلان کا محتاط انداز میں خیرمقدم کیا ہے اور وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا ہے کہ’ہمیں دیکھنا ہوگا کہ روس کے اصل ارادے کیا ہیں۔‘

امریکی صدر براک اوباما نے اس سلسلے میں روسی صدر سے پیر کی شب فون پر بات بھی کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ’شام سے روسی افواج کے جزوی انخلا اور جنگی اقدامات کی مکمل روک تھام کے لیے درکار اقدامات پر بات کی۔‘

بیان کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ ’شام میں تشدد کے خاتمے کے لیے سیاسی تبدیلی ضروری ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption روس کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ شام میں موجود عسکری سازوسامان کو طیاروں پر لادا جا رہا ہے تاکہ انھیں واپس وطن لایا جا سکے

روسی صدر کی جانب سے شام سے افواج کے انخلا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت جنیوا میں شام میں جاری پانچ سالہ خانہ جنگی کے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔

روس شام کے صدر بشار الاسد کا اہم اتحادی ہے اور شامی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے سے متفق ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فوجوں کا انخلا ’زمینی صورتحال سے مطابقت رکھتا ہے۔‘

روسی صدر نے کہا تھا کہ صدر بشار الاسد کی حمایت میں روس کی بمباری مہم نے اس تنازع کا رخ بدلا اور وہ حالات پیدا کیے کہ اب قیامِ امن کے لیے بات چیت ہو رہی ہے۔

ستمبر 2015 میں روس کی شام کی خانہ جنگی میں مداخلت سے اس جنگ میں شامی حکومت کا پلڑا بھاری ہوگیا تھا اور اس کے بعد حکومتی افواج نے باغیوں کے قبضے سے کئی علاقے چھڑوائے تھے۔

روس شام میں اپنی فوجی کارروائیوں کے بارے میں دعویٰ کرتا رہا ہے کہ وہ صرف دہشت گرد تنظیموں کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ مغربی طاقتیں یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ روس بشارالاسد کے مخالفین کو نشانہ بنا رہا ہے۔

سفارتی امور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کا کہنا ہے کہ روس شام میں فوجی مداخلت کے ذریعے صدر بشار الاسد کی پوزیشن مضبوط کرنا، سٹریٹیجک اہمیت کے علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنا اور یہ یقینی بنانا چاہتا تھا کہ شام کے مستقبل میں بشار الاسد کا کردار ہو اور اس نے یہ سب اہداف حاصل کر لیے ہیں۔

اسی بارے میں