یمن میں فضائی حملے میں ’درجنوں افراد ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Al Masirah
Image caption ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ’خوفناک مناظر تھے۔ ہر طرف خون اور اعضا بکھرے تھے‘

یمن میں طبی عملے کے مطابق سعودی عرب کی کمان میں قائم اتحاد کے فضائی حملوں میں کم از کم 41 عام شہری ہلاک اور 35 زخمی ہوگئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق حجہ صوبے میں ضلع مستبا کے مصروف بازار کو کم از کم دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

حملے کے بعد جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں کئی بچوں کی لاشوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد فوجی کارروائیاں کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق گذشتہ سال مارچ میں شروع ہونے والی اس فوجی مہم میں 6200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں نصف عام شہری شامل ہیں۔

گذشتہ ماہ ہلاک ہونے والے 168 عام شہریوں میں دو تہائی کی ہلاکت فضائی حملوں میں ہوئی تھی۔

منگل کو ہونے والے فضائی حملے کے بعد ایک عینی شاہد شووی حمود نے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ’خوفناک مناظر تھے۔ ہر طرف خون اور اعضا بکھرے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں نے کٹے ہوئے اعضا کو بیگوں اور کمبلوں میں جمع کیا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں بیشتر بچے تھے جو بازار میں کام کرتے تھے۔

Image caption یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد فوجی کارروائیاں کر رہا ہے

اس سے قبل طبی امدادی ادارے میڈیسنز سانز فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) کا کہنا تھا کہ ابس ہسپتال میں40 زخمی لائے گئے ہیں جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔

تاہم بعد میں ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ 41 لاشیں لائی گئی تھیں جبکہ 35دیگر افراد زخمی ہیں۔

حجہ کے شعبہ صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایمن مذکور نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 41 ہے۔

حوثی نواز خبررساں ادارے صبا کے مطابق بازار اور اس کے قریب واقع ریستوان پر حملے میں کل 65 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

سعودی عرب کی کمان میں قائم فوجی اتحاد نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

اسی بارے میں