ارجنٹائن نے چین کی ماہی گیر کشتی ڈبو دی

تصویر کے کاپی رائٹ Hai quan Argentina
Image caption کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ پہلے انھوں نے اس کشتی سے ریڈیو پر رابطہ کرنے کوشش کی تھی

ارجنٹائن کے گوسٹ گارڈز نے ایک چینی کشتی کا پیچھا کر کے اسے ڈبو دیا ہے جس پر ان کے بقول پیر کو ارجنٹائن کی سمندری حدود میں غیر قانونی طور پر مچھلی کا شکار کیا جا رہا تھا۔

ایک بیان میں کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ ان کی ایک کشتی نے ’لُو یان یوان یُو 010‘ نامی کشتی پر تنبیہی فائر کیے جس کے بعد وہ بین الاقوامی سمندر حدود کی جانب چلی گئی۔

کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ پہلے انھوں نے اس کشتی سے ریڈیو پر رابطہ کرنے کوشش کی تھی۔ ان کے مطابق کشتی پر سوار عملے کے 32 ارکان کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔

چین نے کشتی ڈبوئے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

چین کے وزراتِ خارجہ کے ترجمان لُو کانگ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ’بیجنگ نے ارجنٹائن سے واقعے کی تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ‘

جنوبی بحرِ اوقیانوس میں مچھلی کا غیر قانونی شکار عام بات ہے۔

کوسٹ گارڈز کے بیان کے مطابق’کشتی پر ہسپانوی اور انگریزی دونوں زبانوں میں ریڈیو سگنل بھیجے گئے، تاہم کشتی کے عملے نےاپنی ماہی گیری والی روشنیاں بند کر دیں اور بین الاقوامی پانیوں کی جانب فرار کی کوشش کی۔ انھوں نے ریڈیو کالز کا بھی کوئی جواب نہیں دیا۔‘

بیان کے مطابق ’حدود کی خلاف ورزی کرنے والی کشتی نے کئی مرتبہ ایسی نقل و حرکت کی کہ کوسٹ گارڈز کی کشتی کے ساتھ اس کی ٹکر ہو جائے۔ ایسا کر کے نہ صرف انھوں نے اپنے عملے بلکہ کوسٹ گارڈز کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈالا۔‘

چین سمندری خوراک کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے اور اس کے پاس سب سے بڑے طویل فاصلے تک مچھلی کا شکار کرنے والے بیڑے ہیں، جن کی اس وقت تعداد دو ہزار کے قریب ہے۔

سنہ 2012 میں ارجنٹائن نے چین کی دو کشتیاں پکڑی تھیں جن پر الزام تھا کہ وہ اس کی معاشی زون میں مچھلی کا شکار رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Prefectura Naval Argentina
Image caption جنوبی بحرِ اوقیانوس میں مچھلی کا غیر قانونی شکار عام بات ہے

اسی بارے میں