سعودی عرب ایران سے مشروط مذاکرات کے لیے تیار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شہزادہ ترکی بن فیصل السعود نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کے دوران ایران کے ساتھ تعلقات کی بہتری کا عندیہ دیا

سعودی عرب کے شاہی خاندان کے ایک سینیئر رکن پرنس ترکی بن فیصل السعود نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ شام سے ایران اپنے فوجی ہٹانے کے لیے رضامند ہو۔

مشرق وسطیٰ میں ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے کے مخالف تسلیم کیے جاتے ہیں۔ شام کے بحران میں جہاں ایران صدر بشار الاسد کی حکومت کے ساتھ ہے وہیں سعودی عرب ان کے مخالفین کا حامی ہے۔

لیکن پرنس ترکی نے بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں عندیہ دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگي ختم ہو سکتی ہے۔

اس سلسلے میں انھوں نے ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کا ذکر کیا جو ان کے مطابق سنہ 1980 کی دہائی میں سابق سعودی شاہ عبداللہ کے ساتھ مل کر دونوں ممالک درمیان علیحدگي کے دور کو ختم کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

بی بی سی کی فارسی سروس کو دیے جانے والے انٹرویو میں انھوں نے مزید بتایا کہ ’دونوں ممالک کے بہت سے مشترکہ مفاد ہیں جو انھیں ایک دوسرے کے قریب لا سکتے ہیں۔‘

سعودی پرنس نے کہا کہ شام سے بڑی تعداد میں اپنے فوجی ہٹانے کے روس کے فیصلے پر انھیں حیرت ہے۔

Image caption حال میں ایک شیعہ عالم شیخ النمر کو پھانسی دینے کے بعد ایران اور سعودی عرب کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے تھے

انھوں نے کہا کہ ’اس فیصلے سے شام میں امن کے لیے ہونے والی موجودہ کوششوں کو تقویت ملے گی اور وہاں جاری خونریزی کو بھی روکنے میں مدد ملے گی۔‘

انھوں نے کہا: ’تمام غیر ملکی فوجیوں کو شام سے چلے جانا چاہیے شام کے لوگ اس کا استقبال کریں گے۔‘

امریکی صدر براک اوباما سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے پرنس ترکی نے کہا کہ اوباما کو ان کے ملک پر بے بنیاد الزامات کا جواب دینا ہی ہو گا۔

اوباما نے سعودی عرب سمیت امریکہ کے کئی اتحادی ممالک کو ’فری رائیڈرز‘ یعنی مفت خور کہا تھا۔

سعودی شہزادے نے کہا کہ ان کا ملک ایک ذمہ دار خود مختار ملک ہے اور اس نے کبھی کوئی ’مفت سواری‘ نہیں کی ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب ’دنیا میں دہشت گردی پھیلانے والا ملک نہیں ہے، جیسا کہ الزام لگایا جاتا ہے۔‘

اس کے برعکس پرنس ترکی نے کہا کہ ’ہم دہشت گردی کے سب سے بڑے شکار ہیں۔‘

اسی بارے میں