جاسوسی کے شبے میں برطانوی سفارت کاروں سے پوچھ گچھ

تصویر کے کاپی رائٹ RIA Novosti
Image caption ایک امریکی شحض کو بھی ماسکو کے علاقے میں فوجی اڈے کی تصاویر لیتے ہوئے حراست میں لیا گیا ہے

روس کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ دو برطانوی سفارت کاروں کو شمالی اوسیتیا میں ہوائی اڈے پر فوجی طیاروں کی غیر قانونی طور پر فلم بندی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

روسیا ون کا کہنا ہے کہ ماسکو میں موجود برطانوی سفارت خانے کے دفاعی اتاشی کیرل سکاٹ اور ان نائب نیول اتاشی رائن کوٹیلن ہاگسن کو موزدک بیس کے پاس کے پاس جاسوسی کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔

برطانیہ میں وزراتِ خارجہ نے دو برطانوی افراد کے روکے جانے کیا تصدیق کی ہے۔

روسی ٹیلی وژن کا دعویٰ ہے کہ ایک امریکی شخص کو بھی ماسکو کے علاقے میں فوجی اڈے کی تصاویر لیتے ہوئے حراست میں لیا گیا ہے۔

برطانوی دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’یہ دفاعی اتاشیوں کے لیے معمول کی بات ہے کہ وہ میزبان ملک میں اپنے فرائض کی ادائیگی کے لیے سفر کریں۔ اور روس میں اس حوالے سے کوئی تفریق نہیں ہے۔‘

بیان کے مطابق ’روسی حکام کی درخواست پر دفاعی اتاشی نے تمام متعلقہ جانچ پڑتال کروا دی ہے۔‘

یہ خبریں ایسے وقت میں آئی ہیں جب حال ہی میں روس نے شام سے فوج واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

روسی ٹیلی وژن پر منگل کی شام نشر ہونے والی خبروں میں کہا گیا کہ ’اوسیتیا اور ماسکو سے تین جاسوسوں کو نگرانی کرتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا ہے۔‘

رپورٹوں میں دعویٰ کیا گیا کہ ’ایک برطانوی جنرل نے ڈپلومیٹک نمبر پلیٹ والی گاڑی میں فرار ہونے کی کوشش کی۔‘ اور کہا گیا کہ شاید ان سفارت کاروں کو ملک سے بے دخل کر دیا جائے۔

رپورٹ میں سفارت کاروں کی گاڑی اور ان کے کارڈز دکھائے گئے۔

رپورٹر نے کہا کہ ان افراد کو اس علاقے میں جانے اور فلم بندی کی اجازت نہیں ہے۔ ان کے مطابق مسٹر سکاٹ کو چار سال قبل بھی ایک دوسرے علاقے میں پولیس نے حراست میں لیا تھا اور اب ان کے کاغذات روسی وزراتِ خارجہ کو بھجوا دیے گئے ہیں تاکہ برطانوی سفارت خانے میں باقاعدہ طور پر پیش کیے جا سکیں۔

اسی بارے میں