مراکش کی امن مشن سے فوجی واپس بلانے کی دھمکی

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption بان کی مون نے مراکش کے ردعمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج سے اُن کی اور اقوام متحدہ دونوں کی بےعزتی ہوئی ہے

مراکش کے حکام نے مغربی صحارا کے ایک متنازع علاقے کے بارے میں بان کی مون کے بیان پر اقوام متحدہ کے عالمی امن مشن سے اپنے فوجی واپس بلانے کی دھمکی دی ہے۔

مراکشی حکام اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے اِس متنازع علاقے کے لیے ’قابض‘ کی اصطلاح استعمال کرنے پر برہم ہیں۔

مراکش نے سنہ 1975 میں اِس علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ مغربی صحارا کے علاقے کے لیے اقوام متحدہ کے مشن سے اہلکار اور فنڈنگ فوری طور پر کم کر دیں گے۔

اِسی حوالے سے ہفتے کے روز دارالحکومت رباط میں لاکھوں مراکشی شہریوں نے احتجاج بھی کیا تھا۔

بان کی مون نے مراکش کے ردعمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج سے اُن کی اور اقوام متحدہ دونوں کی بےعزتی ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دارالحکومت رباط میں لاکھوں مراکشی شہریوں نے احتجاج کیا

اِس وقت مراکش کے تقریباً 2,300 فوجی اور پولیس اہکار اقوام متحدہ کے عالمی مشن کا حصہ ہیں، جن میں سے زیادہ تر افریقی ممالک، مالی، آئیوری کوسٹ، برونڈی اور جمہوری وسطی افریقہ میں تعینات ہیں۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ’اقوام متحدہ کے عالمی مشن میں شامل مراکشی فوجیوں کو واپس بلانے پر غور کر رہے ہیں۔‘

بان کی مون نے یہ بیان جنوبی الجیریا میں ایک پناہ گزین کیمپ کے دورے کے موقعے پر دیا تھا، جہاں ساہراوس نسل کے 160,000 سے زیادہ شہری رہائش پذیر ہیں، اِن میں سے زیادہ تر افراد سنہ 1970 میں ہونے والے فسادات کے بعد وہاں سے فرار ہو گئے تھے۔

مراکش نے سنہ 1976 میں سابقہ ہسپانوی نوآبادی کے اس متنازع علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ لیکن پولیسارو فرنٹ جس کو الجیریا کی حمایت بھی حاصل ہے، آزادی کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔

اطلاعات کے مطابق منگل کے روز تقریباً دو لاکھ افراد نے مغربی صحارا کے اہم شہر لایون میں مراکش سے اظہار یکجہتی کے لیے احتجاج کیا تھا۔

مراکش اور پولیسارو فرنٹ کے درمیان سنہ 1991 میں سیزفائر معاہدہ طے پانے سے قبل مغربی صحارا کے معاملے پر لڑائی جاری تھی۔

اِس تنازعے کے دوران فرار ہونے والے کئی افراد اب بھی جنوبی الجیریا کے پناہ گزین کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔

اسی بارے میں