یمن: سعودی عرب کا فوجی کارروائیوں میں کمی کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک اندازے کے مطابق یمن کی جنگ میں اب تک 6200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

سعودی عرب نے کہا ہے کہ یمن میں اس کی سربراہی میں قائم اتحاد کی جانب سے حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں کمی لائی جائے گی۔

امریکی حمایت کے حامل عرب ممالک کے اتحاد نے یمن کی حکومت کے حمایت میں ایک سال قبل فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

سعودی عرب کی فوجی کے ترجمان نے کہا ہے کہ فوجی اتحاد کی جانب سے یمنی فوجوں کو فضائی مدد جاری رکھی جائے گی۔

سعودی عرب کی جانب سے یہ اعلان گذشتہ دنوں یمن میں ایک بازار میں فضائی کارروائی کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق ہجہ صوبے کے ضلع مستبا کے ایک بھرے بازار کو کم از کم دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ علاقہ حکومت مخالف شعیہ حوثی باغیوں کے زیرانتظام ہے۔

سعودی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد الاسیری نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ہے کہ اتحاد کی جانب سے حوثی باغیوں کے خلاف یمنی فوجوں کو فضائی مدد جاری رکھی جا سکتی ہے۔

بریگیڈیئر جنرل احمد الاسیری کا کہنا تھا کہ ’اتحاد کا مقصد ایک مضبوط مربوط حکومت کا قیام ہے جس میں مضبوط قومی فوج اور سکیورٹی فورسز شامل ہوں جو دہشت گردی کا مقابلہ کر سکیں اور مل بھر میں قانون کا نقاذ کریں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ صرف اتحاد فوجوں کی ’چھوٹی‘ ٹیمیں وہاں موجود رہیں گی جو یمنی فوجوں کو ’سامان و سامان مہیا کرنے، تربیت اور مشاورت‘ کا کام کریں گی، جو آہستگی سے اتحادی فوجوں کی جگہ لے رہی ہیں۔

Image caption یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد فضائی کارروائیاں کر رہا ہے۔

ہجہ صوبے کے بازار میں میں ہونے والا حملہ یمن میں سعودی عرب کی فضائی کارروائیوں کے آغاز سے دوسرا شدید ترین حملہ تھا، اس سے قبل گذشتہ ستمبر میں ایک شادی کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 131 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

بریگیڈیئر جنرل الاسیری کا کہنا تھا کہ اتحاد کی جانب سے حملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ جمعرات کو ہونے والی کارروائی میں بازار سے دس کلو میٹر دور حوثی باغیوں کے ’اکٹھا ہونے والے ایک علاقے‘ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی اس حملے کی مذمت کی تھی اور کہا تھا ’عام شہریوں اور شہری املاک بشمول مصروف بازاروں کو نشانہ بنانا سختی سے ممنوع ہے۔‘

خیال رہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد فضائی کارروائیاں کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق گذشتہ سال مارچ میں شروع ہونے والی اس فوجی مہم میں 6200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں نصف عام شہری شامل ہیں۔

گذشتہ ماہ ہلاک ہونے والے 168 عام شہریوں میں دو تہائی کی ہلاکت فضائی حملوں میں ہوئی تھی۔

اسی بارے میں