انقرہ دھماکے کی ذمہ داری کرد تنظیم نے قبول کر لی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ ہفتے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے دھماکے میں 37 لوگ مارے گئے تھے

کردستان ورکرز پارٹی سے منسلک عسکریت پسند گروہ ’ٹی اے کے‘ نے ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

ایک آن لائن بیان میں انھوں نے کہا کہ یہ دھماکہ ملک کے جنوب مشرق میں واقع کردوں کے علاقے میں ترک حکومت کی جانب سے فوجی کارروائی کے جواب میں کیا گیا ہے۔

انقرہ میں ہونے والے دھماکے میں 37 افراد مارے گئے تھے۔

ٹی اے کے کالعدم تنظیم کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کی شاخ ہے۔

اس نے پہلے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ پچھلے ماہ انقرہ میں دھماکوں کے ذمہ دار وہی تھے۔

ترکی حکام نے ان دھماکوں کا الزام پی کے کے پر لگایا تھا۔

خود کش کار بم دھماکہ اتوار کی شام شہر کے ایک مصروف بازار میں کیا گیا تھا۔

اس دھماکے کے بعد ملک کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا تھا کہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے گی اور انھیں ’گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گی۔‘

اس اعلان کے بعد پیر کو ترکی کے جنگی طیاروں نے ملک کے جنوب مشرق اور عراق میں موجود کرد باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا اور قندیل اور گارا کے علاقوں میں کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے اسلحے کے ذخیرے سمیت 18 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔

ٹی اے کے کا مطلب ’کردستان فریڈم ہاکس‘ ہے۔ اس نے کردی زبان کی ایک ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا کہ اس حملے کا نشانہ سکیورٹی فورسز تھیں اور عوام کو ہلاک کرنا مقصود نہیں تھا۔

تاہم اس نے خبردار کیا کہ حملوں میں عام شہریوں کی مزید ہلاکتیں ناگزیر ہیں۔

اس ہفتے کے آغاز میں ترکی کی حکومت نے کہا تھا کہ اس دھماکے سے منسلک 11 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں