چلی: اسقاطِ حمل پر پابندی ختم کرنے کا بل منظور

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسمبلی کے 66 اراکان میں سے 44 نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا

چلی کی کانگریس کے ایوان زیریں نے اسقاط حمل پر سے پابندی اٹھانے کے بل کی منظوری دے دی ہے۔

بل کے مطابق اسقاطِ حمل کی اجازت صرف ریپ کے نتیجے میں کسی کے حاملہ ہونے، زچگی سے ماں کی صحت کو خطرہ لاحق ہونے اور رحم میں بچے کی صحیح نشونما نہ ہونے کی صورت میں ہوگی۔

پاپائے روم کا اسقاطِ حمل کے خلاف سخت بیان

مشیل باشلیٹ کی حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے اس بل کو قانون کی شکل دینے کے لیے ابھی سینیٹ کی منظوری درکار ہے۔

ایک کیتھولک ملک ہونے کے باوجود چلی میں 1989 تک اسقاط حمل کی اجازت تھی۔

لیکن جنرل آگسٹو پنوشے کی فوجی حکومت نے اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں اسقاط حمل پر پابندی عائد کردی تھی۔

چیمبر آف ڈپٹیز کہلائے جانے والے چلی کے ایوان زیریں کے سربراہ مارکو انٹونیو نونیز نے کہا ہے کہ ’اس بل کا پاس ہونا ناقابل یقین ہے۔‘

رائے عامہ کے مطابق چلی کے زیادہ تر عوام اس تبدیلی کے حق میں ہیں۔

اسمبلی کے 66 اراکان میں سے 44 نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا۔

تقریبا 14 ماہ قبل پیش کیے جانے والی اس بل کی منظوری کے لیے حکومت نے قدامت پسند کرسچین ڈیموکریٹ پارٹی کے کچھ ارکان کی حمایت بھی حاصل کرلی تھی۔

ایک اور قدامت پسند پارٹی انڈیپینڈنٹ ڈیموکریٹک یونین کی رکن کلاڈیا نوگوایرا کا کہنا تھا کہ 'یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ ایک زندگی کو دنیا میں آنے سے قبل ہی ختم کردیا جائے۔‘

چلی لاطینی امریکہ کے ان سات ممالک میں شامل ہے جہاں ابھی تک اسقاط حمل پر پابندی عائد ہے۔ چلی کے علاوہ ان ممالک میں ال سلویڈور، ڈومینیکن ریپبلک، ہیٹی، ہونڈوراس، نکاراگوا، اور سورینم کے نام شامل ہیں۔

صرف کیوبا، گیانا، پورٹو ریکو اور یوراگوائے وہ ممالک ہیں جہاں ریپ یا عورت کی صحت کو خطرات لاحق ہونے کے علاوہ بھی کئی حالات میں اسقاط حمل کی اجازت ہے۔

سنہ 2012 میں یوراگوائے کی کانگریس نے انتہائی کم ووٹوں سے حمل کے پہلے 12 ہفتوں میں اسے ضائع کروانے کی اجازت کا قانون پاس کیا تھا۔

میکسیکو میں صرف میکسیکو سٹی وہ واحد شہر ہے جہاں حمل کی پہلے 12 ہفتوں میں اسقاط حمل کا قانون موجود ہے۔

اسی بارے میں