استنبول میں فٹبال میچ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر منسوخ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ اتوار کو ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے دھماکے میں 37 افراد ہلاک ہوئے تھے

ترک حکام نے بتایا ہے کہ استنبول کی دو بڑی فٹبال ٹیموں کے درمیان ایک میچ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔

استنبول کے گورنر کے دفتر نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ’قابلِ یقین خفیہ معلومات کے تجزیے کے بعد کیا گیا ہے۔

جب میچ کے التوا کا اعلان کیا گیا اس وقت فٹبال کے شائقین فینرباہجے اور گیلاتاساری کے درمیان ہونے والا میچ دیکھنے کے لیے سٹیڈیئم پہنچ چکے تھے۔

یہ التوا اس وقت عمل میں آیا ہے جب حکام نے استنبول شہر کے ڈیڑھ کروڑ باسیوں پر بار بار زور دیا ہے کہ وہ دھماکے کے بعد سے روزمرہ کے معمول کے مطابق زندگی گزاریں۔

وزیرِ داخلہ ایفکین علا نے اسی دوران بم دھماکے کے ممکنہ مرتکب فرد کا نام جاری کیا ہے۔ ان کا نام محمد اوزترک ہے اور وہ 1992 میں غازیان تیپ میں پیدا ہوئے تھے۔

انھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اب تک پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ترکی کے وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ سنیچر کو استنبول میں حملہ کرنے والے خودکش بمبار کا تعلق خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم سے تھا۔

وزیرِ داخلہ ایفکن اعلیٰ کے بقول خود کش حملہ آور کی شناخت ہوگئی ہے اور اس کا نام محمد اوزترک تھا۔

انقرہ دھماکے کی ذمہ داری کرد تنظیم نے قبول کر لی

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اب تک پانچ افراد سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سنیچر کا وحشیانہ حملہ سنہ 1992 میں غازی عینتاب میں پیدا ہونے والا محمد اوزترک نے کیا تھا اور اس کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے ہے۔‘

اس موقعے پر وزیرِ داخلہ نے ملک کے سات صوبوں میں سکیورٹی کے اقدامات اور کرفیو کے نفاذ کا ارسرِ نو جائزہ لینے کے کا اعلان بھی کیا۔

ترکی کے شہر استنبول میں حکام کے مطابق سنیچر کو ایک سیاحتی مقام پر خود کش حملے میں 4 افراد ہلاک اور 36 زحمی ہوے تھے۔

Image caption ہلاک ہونے والے اسرائیلی شہریوں کی لاشیں اتوار کو واپس بھیجی جارہی ہیں

ہلاک کے ہونے والوں اسرائیل اور امریکہ کی دہری شہریت رکھنے والے دو افراد کے علاوہ ایک ایرانی شہری بھی شامل ہے۔

زخمیوں میں بھی 11 اسرائیلی شہری شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے اسرائیلی شہریوں کی لاشیں اتوار کو واپس بھیجی جا رہی ہیں۔

دریں اثنا اسرائیل نے اپنے شہریوں سے ترکی کا سفر کرنے سے گریز کرنے کو کہا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ اتوار کو ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ہونے والے دھماکے میں 37 افراد ہلاک ہوئے تھے اور کرد عسکریت پسند تنظیم ٹی اے کے نے اس حملے کے ذمہ داری قبول کی تھی۔

اس کے بعد ملک کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا تھا کہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے گی اور انھیں ’گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گی۔‘

ترک صدر کا کہنا تھا کہ اس قسم کے حملوں سے ملک کی افواج کا عزم مزید مضبوط ہی ہوتا ہے۔

کرد باغیوں نے حالیہ مہینوں میں ترک علاقے میں کئی حملے کیے ہیں جبکہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ بھی انقرہ کو نشانہ بنا چکی ہے۔

اسی بارے میں