اوباما، کاسترو ملاقات میں انسانی حقوق کے معاملے پر تنازع

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ وہ کیوبا پر عائد تجارتی پابندیاں مکمل طور پر ختم کر دیں گے

امریکہ کے صدر براک اوباما اور کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے تاریخی مشترکہ پریس کانفرنس میں انسانی حقوق کے معاملے پر اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے پر اتقاق کیا ہے۔

دارالحکومت ہوانا میں مشترکہ پریس کانفرنس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی،گوانتاناموبے میں امریکی جیل اورسیاسی قیدیوں کے معاملے پر بات ہوئی۔

امریکی صدر اوباما کے دورۂ کیوبا کی تصاویر’کیوبا میں تبدیلی آئےگی اور کاسترو یہ جانتے ہیں‘

تاریخی پریس کانفرنس میں کیوبا کے صدر راؤل کاسترو نے کہا کہ امریکہ کیوبا سے تجارتی پابندیاں ختم کرے اور گوانتاناموبے جیل کو بند کرے۔

دونوں ممالک کے صدر کی مشترکہ پریس کانفرنس میں راؤل کاستروں نے صحافیوں کے سوالات کا جواب بھی دیا۔

سیاسی قیدیوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں راؤل کاستروں نے سیاسی قیدیوں کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’کوئی فہرست ہے تو مجھے دیں وہ شام تک رہا ہو جائیں گے۔‘

کیوبا کے صدر نے کہا کہ ’ہم انسانی حقوق کا تحفظ کرتے ہیں اور ہماری نظر میں شہری، سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی حقوق ناقابل تقسم اور ایک دوسرے پر محنصر ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ حکومت صحتِ عامہ، تعلیم، سوشل سکیورٹی کے حقوق کا دفاع نہ کر سکے۔‘

امریکی صدر براک اوباما کیوبا کے تین روزہ دورے پر ہیں اور 88 سال میں پہلے امریکی صدر ہیں جنھوں نے کیوبا کا دورہ کیا ہے۔

دارالحکومت ہوانا میں مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ کیوبا پر عائد تجارتی پابندیاں مکمل طور پر ختم کر دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر اوباما اور خاتونِ اول کے اعزاز میں دیے گئے سرکاری عشائیے میں امریکی کانگریس کے اراکین اور وائٹ ہاؤس کے حکام بھی شریک تھے

صدر اوباما نے کہا کہ ’کیوبا کی قسمت کا فیصلہ امریکہ یا کوئی اور ملک نہیں کرے گا۔کیوبا کے مستقبل کا فیصلہ کسی اور کو نہیں بلکہ عوام کو کرنا ہے۔‘

صدر اوباما نے تجارتی پابندیاں اُٹھانے سے متعلق کوئی وقت تو نہیں دیا لیکن انھوں نے کہا کہ پابندیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے گذشتہ 50 برسوں میں کیوبا کے ساتھ جو کچھ کیا وہ نہ تو ہمارے مفاد میں تھا اور نہ ہی کیوبا کے۔‘

’کیوبا پر تجارتی پابندیاں اُٹھانے کے لیے صدر اوباما کی انتظامیہ جو کر سکتی تھی اُس نے کیا لیکن مزید پابندیاں اُٹھانے کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہے۔‘

صدر اوباما نے کہا کہ کیوبا پر عائد مزید پابندیاں اُٹھانے کے لیے کیوبا کو انسانی حقوق کے بارے میں اقدامات کرنا ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ صرف کیوبا ہی نہیں ہے جہاں انسانی حقوق سے متعلق امریکہ کو ’شدید اختلاف‘ ہے امریکہ کا اس معاملے پر چین اور ویتنام سے بھی اختلافات ہیں۔

صدر اوباما اور خاتونِ اول کے اعزاز میں سرکاری عشائیہ دیا گیا جس میں امریکی کانگریس کے اراکین اور وائٹ ہاؤس کے حکام بھی شریک تھے۔

بی بی سی کے شمالی امریکہ کے مدیر جون سوپل کہتے ہیں کہ صرف 18 ماہ قبل کسی امریکی صدر کا کیوبا کی سرزمین پر قدم رکھنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں ہونے والی یہ پریس کانفرنس ’تاریخی‘ اور ’کشیدہ‘ تھی۔ مقامی نامہ نگار نے بتایا کہ مسٹر کاسترو نے پریس کانفرس میں ’معمول سے زیادہ گفتگو کی۔‘

ٹیکنالوکی کمپنی گوگل نے کیوبا میں آن لائن ٹیکنالوجی سینٹر کھولنے کا اعلان کیا جہاں مفت انٹرنیٹ فراہم کیا جائے گا۔

اسی بارے میں