صالح عبدالسلام کے ایک نئے’ساتھی‘ کی شناخت

تصویر کے کاپی رائٹ EVN

بیلجیئم میں استغاثہ کا کہنا ہے کہ ڈی این اے کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ پیرس حملوں کے مشتبہ حملہ آور صالح عبدالسلام کے ساتھ ایک اور شخص بھی تھا۔

سرکاری حکام کے مطابق اس شخص کا نام نجیم لاشاروئی ہے اور یہ 24 سالہ شخص ابھی تک مفرور ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق یہ شخص جعلی شناخت کارڈ استعمال کر رہا ہے اور اس کا ڈی این اے اس فلیٹ سے برآمد کیا گیا ہے جو شدت پسند استعمال کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ ایک بڑی کارروائی کے بعد صالح عبدالسلام کو جمعے کو حراست میں لے لیا گیا تھا اور ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ فرانس کے صدر اولاند آج (پیر) کو 13 نومبر سنہ 2014 کے پیرس حملوں میں ہلاک ہونے والے 130 افراد کے خاندانوں سے ملاقات کریں گے۔

دریں اثناء صالح عبدالسلام کے وکیل نے ان کی گرفتاری کے بعد سے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے کہ حکام کی جانب سے نرم رویے کے عوض صالح عبدالسلام اقبالی گواہ بن جائیں گے۔

اتوار کو بیلجیئم کے وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ ملزم صالح عبدالسلام گرفتاری سے قبل بیلجیئم کے شہر برسلز میں حملہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔

وزیرِ خارجہ دیدیے رائندرس نے خارجہ پالیسی کے ایک فورم کو بتایا تھا کہ شہر سے بہت سا اسلحہ برآمد کیا گیا ہے اور ایک نئے دہشت گردہ گروہ کا بھی سراغ لگایا ہے۔

پیرس حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی اور ان میں 130 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

استغاثہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس ستمبر میں صالح عبدالسلام دو مرتبہ ہنگری کے دارالحکومت بوڈا پیسٹ گئے تھے جس کے لیے انھوں نے کرائے کی گاڑی استعمال کی تھی۔

مذکورہ کار میں صالح کے علاوہ دو اور افراد بھی سوار تھے جن کے پاس موجود شناختی کارڈ جعلی تھے جن پر ان کے نام ’سمیر بزید‘ اور ’سفیان کایل‘ ظاہر کیے گئے تھے۔

حکام کے مطابق اب آویلیس اور برسلز کے دو مکانوں سے اکھٹے کیے گئے ڈی این اے کے نمونوں کے تجزیے کے بعد سفیان کی شناخت ہو گئی ہے اور ان کا اصل نام نجیم لاشاروئی ظاہر ہوا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران واضح ہوا ہے کہ سفیان کایل اصل میں نجیم لاشاروئی ہیں، جن کی تاریخ پیدائش 18 مئی سنہ 1991 ہے اور وہ فروری سنہ 2013 میں شام بھی گئے تھے۔

بلجـیئم کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس بات کے ’خاصے امکانات‘ ہیں کہ سمیر بزید اصل میں محمد بلقید تھے جنھیں برسلز کے نواح میں 15 مارچ کو کی جانے والی ایک کارروائی میں پولیس کی فائرنگ میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

استغاثہ نے بیلجیئم میں عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ لاشاروئی کی تلاش میں حکومت کی مدد کریں۔

اس کے علاوہ حکام کو محمد ابرینی کی تلاش بھی ہے جنھیں پیرس حملوں سے دو دن پہلے ایک پٹرول سٹیشن پر صالح عبدالسلام کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔

ادھر ریڈیو پر انٹرویو دیتے ہوئے صالح عبدالسلام کی وکیل نے کہا ہے کہ ان کے موکل اب ’سکون‘ میں ہیں کہ حکام نے ان کا پیچھا کرنا چھوڑ دیا ہے۔

اسی بارے میں