یوکرینی پائلٹ کے خلاف مقدمہ فیصلہ کن مرحلے میں داخل

تصویر کے کاپی رائٹ RIA Novosti
Image caption مغربی ممالک کے رہنما نادیہ ساوچنکو کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

روس کی ایک عدالت نے یوکرائن کی پائلٹ نادیہ ساوچنکو کو دو روسی صحافیوں کو مارٹر گولوں کی فائرنگ سے ہلاک کرنے کے جرم میں مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق استغاثہ کا الزام تھا کہ نادیہ نے مارٹر فائرنگ کا حکم دیا جس کی زد میں آ کر مشرقی یوکرین میں دو صحافی ہلاک ہو گئے تھے۔ استغاثہ کا مطالبہ ہے کہ اس جرم میں نادیہ ساوچنکو کو 23 سال قید کی سزا ہونی چاہیے۔

لیکن نادیہ کے وکیل کے مطابق فون کے ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ صحافیوں کی موت سے قبل انھیں روس کے حامی باغیوں نے اغوا کیا ہوا تھا۔

یوکرین اور کئی مغربی ممالک اس مقدمے کو روس کی جانب سے ایک دکھاوا قرار دے رہے ہیں اور اس کی مذمت کر رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق منگل کو عدالت نے وہ وجوہات بیان کیں جن کی بنیاد پر ماریہ پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، جبکہ عدالت اپنا تفصیلی فیصلہ بعد میں سنائے گی۔

Image caption نادیہ ساوچنکو کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بھوک ہڑتا ل پر ہیں

نادیہ ساوچنکو کی ایک وکیل کا کہنا تھا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جنوبی روس کے شہر دونیئسک کی عدالت نادیہ کو درجنوں سالوں کی قید کی سزا سنا دے گی‘

ادھر روسی سیاستدان مارک فیجین نے نادیہ کا دفاع کرتے ہوئے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ ’پراپیگنڈا مشینری حرکت میں ہے، اور یہاں انصاف اور آزادی کا وجود ہی نہیں ہے۔‘

نادیہ سواچینکو، جو بھوک ہڑتال پر ہیں، ان پر پرالزام ہے کہ اس گولہ باری کا حکم انھوں نے ہی دیا تھا جس کے نتیجے میں روس سے تعلق رکھنے والے دو ٹی وی صحافی، اگور کورنیلیوک اور انتون ولوشن، ہلاک ہوگئے تھے۔

نادیہ اوچنکو ان الزامات سے انکار کرتی ہیں۔

یہ واقعہ جون سنہ 2014 میں اس وقت پیش آیا تھا جب یوکرائن کی فوجوں اور روس کے حامی باغیوں کے درمیان جنگ عروج پر تھی۔

34 سالہ نادیہ، جو کہ یوکرین کی پارلیمان کی رکن بھی ہیں، کہتی ہیں کہ حملے سے کم از کم ایک گھنٹہ قبل انھیں باغی جنگجوؤں نے اغوا کر لیا تھا اور بعد میں انھیں روسی حکام کے حوالے کر دیا گیا تھا۔لیکن روسی استغاثہ کا کہنا ہے کہ وہ جاسوسی کرتے ہوئے روس کی سرحد کے اندر داخل ہوگئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ vira savchenko
Image caption 34 سالہ نادیہ ساوچنکو یوکرین کی پارلیمان کی رکن بھی ہیں۔

مغربی رہنماؤں نے نادیہ کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی رہنما فیڈریشیا مغیرینی نے کہا ہے کہ نادیہ کو ’فوری اور غیر مشروط‘ طور پر رہا کیا جائے، جبکہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سمنتھا پاور نے اس مقدمے کو ’مضحکہ خیز`‘ قرار دیا ہے۔

سنہ 2014 میں یوکرین میں ہونے والے واقعات کے بعد سے روس اور یوکرین کے تعلقات کشیدہ ہوگئے ہیں، اور اس وقت سے یوکرین کو کئی یورپی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

اسی سال مارچ میں حق خود ارادیت کے لیے کروائے گئے ریفرنڈم کے نتیجےمیں ماسکو کو کریمیا کے علاقے پر قبضہ چھوڑنا پڑا تھا۔

روس پر الزام ہے کہ اس نے خفیہ طور پر یوکرین میں باغیوں کی مدد کی جس نے ایک خونی معرکے کو جنم دیا اور مشرقی یوکرین تقسیم ہوگیا۔