یہودیوں کو خفیہ مشن کے ذریعے اسرائیل پہنچایا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حالیہ چند سالوں کے دوران یہودی باشندوں پر حملوں میں اضافے اور جنگ کے باعث تقریباً 200 یہودیوں نے ملک سے نقل مکانی کی ہے

جنگ کے باعث تباہی کے شکار ملک یمن میں مقیم باقی ماندہ یہودیوں میں سے کچھ کو خفیہ مشن کے ذریعے اسرائیل پہنچا دیا گیا ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک سے یہودیوں کو اسرائیل میں نقل مکانی کرانے والی یہودیوں کی ایجنسی کا کہنا ہے کہ حالیہ کچھ روز کے دوران 19 افراد اسرائیل لائے گئے ہیں، جن میں ایک ربی (یہودی مذہب کا پرچار کرنے والے) بھی شامل ہیں، جن کے پاس 500 سال قدیم توریت کا مسودہ ہے۔

یہودیوں کو اسرائیل منتقل کرنے والی غیر منافع بخش تنظیم کا کہنا ہے کہ تقریباً 50 یہودی باشندوں نے یمن میں رہنے کا انتخاب کیا ہے۔

سنہ 1948 سے 51,000 یہودیوں نے یمن سے اسرائیل نقل مکانی کی ہے۔

یمن دنیا کے قدیم ترین یہودی آباد کار ممالک میں سے ایک ہے۔

تقریباً تمام افراد کو سنہ 1949 اور 1950 میں کیے گئے آپریشن میجک کارپٹ کے تحت لایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ریدہ سے آنے والے گروہ میں ربی بھی شامل ہے، جو اپنے ہمراہ 500 سے 600 سال قدیم توریت کا مسودہ بھی لائے ہیں

حالیہ چند سالوں کے دوران یہودی باشندوں پر حملوں میں اضافے اور جنگ کے باعث تقریباً 200 یہودیوں نے ملک سے نقل مکانی کی ہے۔

پیر کے روز ایجنسی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کی شب اسرائیل کی سرزمین پر پہنچے والے گروہ کو ’مشکل خفیہ آپریشن‘ کے تحت لایا گیا ہے۔

بیان کے مطابق ’حالیہ دنوں میں 19 یہودی اسرائیل پہنچے ہیں، جن میں سے 14 کا تعلق یمن کے قصبے ریدہ اور پانچ افراد پر مشتمل خاندان کا تعلق دارلحکومت صنعا سے ہے۔‘

’ریدہ سے آنے والے گروہ میں ربی بھی شامل ہے، جو اپنے ہمراہ 500 سے 600 سال قدیم توریت کا مسودہ بھی لائے ہیں‘۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ سنہ 2008 میں ریدہ کے علاقے میں یہودی اُستاد موشے یسیح نہاری کے قتل کے بعد یمن میں یہودیوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان تنازعے کے بعد یہودی باشندوں کے خطرات میں اضافہ ہوگیا

سنہ 2012 میں ہارون زندانی نامی شخص کو صنعا میں قتل اور نوجوان یہودی خاتون کو اغوا کر لیا گیا تھا، جنھیں بعد میں زبردستی اسلام قبول کرنے اور مسلمان شخص سے نکاح کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اتوار کو اسرائیل پہنچے والی پرواز میں ہارون کے صاحبزادے اور چار دیگر رشتہ دار بھی شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان تنازعے کے بعد جب سعودی عرب کی قیادت میں فوجی مداخلت ہوئی، تو یہودی باشندوں کے خطرات میں اضافہ ہوگیا۔ جس کے بعد یمن سے یہودیوں کے انخلا کے خفیہ مشن کو تیز کردیا گیا تھا۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ تقریباً 50 یہودی اب بھی یمن میں مقیم ہیں۔ جن میں سے 40 یہودی صنعا میں رہائش پذیر ہیں، جہاں یہ لوگ امریکی سفارتخانے سے متصل ایک بند عمارت میں رہتے ہیں اور اُن کو یمنی حکام کی جانب سے بھرپور سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تقریباً 50 یہودی اب بھی یمن میں مقیم ہیں

یمن کے دارالحکومت صنعا اور ریدہ پر حوثی باغیوں کا قبضہ ہے، جن کا نعرہ ہے کہ ’خدا بہت بڑا ہے۔ امریکہ کی موت۔ اسرائیل کی موت۔ یہودیوں پر لعنت۔ اسلام کی فتح۔‘

حالات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے القاعدہ اور خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم سے تعلق رکھنے والے سّنی جنگجو بھی یمن میں قدم جما رہے ہیں۔

ایجنسی کے سربراہ نیتن شاہرنسکے کا کہنا ہے کہ یمن سے یہودی باشندوں کے حتمی گروہ کی آمد’اسرائیل کی تاریخ کا اہم لمحہ ہے۔‘

’سنہ 1949 کے میجک آپریشن سے لیکر آج کے دن تک ایجنسی نے یمنی یہودیوں کو اسرائیل لانے میں مدد کی ہے۔ آج ہم نے اِس تاریخی مشن کو اختتام تک پہنچا دیا ہے۔

’دنیا کی قدیم ترین یہودی برادری میں سے ایک کی تاریخ کا باب اختتام کے قریب ہے۔ لیکن یمن کے یہودیوں کی قوم کے لیے دو ہزار سال قدیم اور منفرد شراکت اسرائیلی ریاست میں جاری رہے گی۔‘

اسی بارے میں