مشتبہ حملہ آور عبدالسلام ’تفتیش میں تعاون کر رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بیلجیم نژاد عبد السلام فرانس کے شہری ہیں جنہیں فرانس لانے کی کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن فی الوقت وہ فرانس کو حوالے کیے جانے کے خلاف عدالتی لڑائی لڑ رہے ہیں

پیرس حملوں کے ایک مشتبہ حملہ آور صالح عبدالسلام کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش کاروں کے لیے اہمیت کے حامل ہیں اور ان کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

صالح عبدالسلام کو گذشتہ ہفتے بیلجیئم میں ایک چھاپہ مار کارروائی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور پولیس ان سے تفتیش کر رہی ہے۔

ان کے وکیل سوین مری نے کہا کہ ’وہ تعاون کر رہے ہیں۔۔۔۔ وہ اپنے خاموش رہنے کے حق کو بھی استعمال نہیں کر رہے ہیں۔‘

لیکن صالح عبدالسلام کے وکیل نے ان کی گرفتاری کے بعد سے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے کہ حکام کی جانب سے نرم رویے کے عوض صالح عبدالسلام اقبالی گواہ بن جائیں گے۔

بیلجیم نژاد عبد السلام فرانس کے شہری ہیں جنہیں فرانس لانے کی کی کوششیں کی جارہی ہیں لیکن فی الوقت وہ فرانس کو حوالے کیے جانے کے خلاف عدالتی لڑائی لڑ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EVN
Image caption صالح عبدالسلام کو گذشتہ ہفتے بیلجیئم میں ایک چھاپہ مار کارروائی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور پولیس ان سے تفتیش کر رہی ہے

اس سے قبل ان کے وکیل نے ایک فرانسیسی تفتیش کار فرانسوا مولن کے خلاف اس بات کے لیے عدالتی کارروائی کی دھمکی دی تھی کہ انھوں نے صحافیوں کو یہ کیوں بتایا کہ صالح عبد السلام اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ خود کو دھماکے سے اڑا لینا چاہتے تھے لیکن بعد میں انہوں نے یہ خيال ترک کر دیا تھا۔

مسٹر مری کا کہنا تھا کہ یہ عدالتی کارروائی کی اندرونی باتیں تھیں جنھیں باہر بحث کا موضوع نہیں بنایا جا سکتا جبکہ مولن کا کہنا تھا کہ انہیں تفتیش کی پیش رفت کو بغیر کسی لاگ لپیٹ کے بتانے کا پورا حق ہے۔

عبدالسلام کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل فی الوقت فرانس کے حوالے کرنے کے خلاف اپنی عدالتی جد و جہد جاری رکھیں گے۔

لیکن ان کا کہنا تھا ’ہم پر ایک بات واضح ہونی چاہیے کہ وہ فرانس تو جائیں گے۔ اب یہ تفتیش میں ملوث جج پر منحصر ہے کہ وہ ان کے جانے کے وقت کے بارے کب فیصلہ کرتے ہیں۔‘

استغاثہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس ستمبر میں صالح عبدالسلام دو مرتبہ ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ گئے تھے جس کے لیے انھوں نے کرائے کی گاڑی استعمال کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

مذکورہ کار میں صالح کے علاوہ دو اور افراد بھی سوار تھے جن کے پاس موجود شناختی کارڈ جعلی تھے جن پر ان کے نام ’سمیر بزید‘ اور ’سفیان کایل‘ ظاہر کیے گئے تھے۔

گذشتہ اتوار کو بیلجیئم کے وزیرِ خارجہ نے کہا تھا کہ ملزم صالح عبدالسلام اپنی گرفتاری سے قبل بیلجیئم کے شہر برسلز میں حملہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔

وزیرِ خارجہ دیدیے رائندرس نے خارجہ پالیسی کے ایک فورم کو بتایا تھا کہ شہر سے بہت سا اسلحہ برآمد کیا گیا ہے اور ایک نئے دہشت گردہ گروہ کا بھی سراغ لگایا ہے۔

پیرس حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی اور ان میں 130 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں