سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت، برطانیہ میں انکوائری

سعودی افواج
Image caption الزام ہے کہ سعودی افواج نہتے عوام پر برطانوی اسلحہ استعمال کرتی رہی ہیں

برطانوی دارالعوام کی اسلحے کی برآمد پر کنٹرول کی کمیٹی نے برطانیہ کی جانب سے سعودی عرب کو بیچے گئے اسلحے کے یمن میں استعمال پر تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔

کمیٹی اس انکوائری میں خلیج کے خطے میں برطانوی اسلحے کی فروخت کے حجم کا جائزہ لے گی اور یہ بھی کہ کس طرح برطانیہ میں تیار کردہ اسلحہ سعودی افواج نے یمن میں استعمال کیا اور یہ بھی کہ کیا اس دوران برطانیہ نے اسلحے کی برآمد کے لیے وضع کیے گئے برطانوی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

کمیٹی کے سربراہ کرس وائٹ نے ایک جاری کردہ بیان میں کہا کہ ’دفاع اور سکیورٹی کی صنعتیں برطانیہ کے اہم ترین برآمد کنندگان میں سے ایک ہیں۔ مگر ہم نے ان تحقیقات کا آغاز یہ جاننے کے لیے کیا ہے کہ برطانیہ میں تیار کردہ ہتھیار یمن میں جاری تنازع میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کیا حکومت اپنے وضع کردہ قوانین کا پاس کر رہی ہے اور اگر نہیں کر رہی تو اس کے کیا مضمرات ہوں گے۔ ہم اس تحقیق میں اس بات کا بھی جائزہ لیں گے ہتھیاروں کی فروخت کے سودے کرتے وقت کیا فروخت کیے جانے والے خطے کی دائمی ترقی کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے یا نہیں۔‘

کمیٹی نے عوام سے اس حوالے سے تجاویز وصول کرنے کی آخری تاریخ 25 مارچ 2015 مقرر کی ہے۔

اس کمیٹی میں دارالعوام کی خارجہ، دفاع، بزنس اور ترقیاتی امور کی کمیٹی کے اراکین شامل ہوں گے۔

یاد رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور برطانوی حزبِ اختلاف کے اراکین سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت کے معاملے کو مختلف مواقع پر ایوان میں اور باہر اٹھاتے رہے ہیں۔

گذشتہ برس ایمنسٹی انٹرنیشنل نے برطانوی حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ اس کے اسلحے کی فروخت یمن میں خانہ جنگی کو ہوا دے رہی ہے اور یہ اس کی داخلی قوانین اور یورپی اور عالمی ذمہ داریوں کے خلاف ہے۔

17 دسمبر 2015 کو جاری کی جانے والی رپورٹ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے لکھا ہے کہ یہ بات برطانوی حکومت کے علم میں کئی مہینوں سے ہے کہ اس کا سعودی عرب کو فروخت کیا گیا اسلحہ سویلینز کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے دارالعوام میں قائدِ حزبِ اختلاف کی جانب سے اس رپورٹ پر سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس رپورٹ کا جائزہ اسی اندازمیں لیں گے جیسے وہ دوسری رپورٹوں کا لیتے ہیں مگر اس پر انکوائری شروع کرنے کے انکار کیا۔

دوسری جانب اسلحے کی تجارت کے خلاف مہم پر کام کرنے والے محققین کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت نے مئی 2010 کے بعد سے 27 میں سے 24 ایسے ممالک کو اسلحہ فروخت کیا ہے جن کے بارے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے برطانوی حکومت کو تشویش ہے۔

اس فہرست میں صرف شمالی کوریا، کیوبا اور ایران ایسے ممالک ہیں جن کو برطانیہ نے اسلحہ فروخت نہیں کیا جبکہ اسلحہ اریٹریا سے لے کر سعودی عرب کو فروخت کیا گیا جس سے صرف 72 یوروفائٹر ٹائفون جنگی طیاروں کا سودا ساڑھے چار ارب پاؤنڈز کا ہے۔

اسی بارے میں