برسلز میں حملے کیوں کیے گئے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برسلز حملوں کے بعد بیلجیئم میں تین روزہ سوگ منایا جارہا ہے

بیلجیئم کے ایک سیاسی رہنما کے مطابق دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہ دن بیلجیئم کی تاریخ کے سیاہ ترین دن ہیں۔

حملوں کی ذمہ داری پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے، ان حملوں میں برسلز کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور بیلجیئم کے دارالحکومت کے مرکز میں واقع میٹرو سٹیشن پر ہونے ہونے والے دھماکوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔

دھماکوں کے یہ اہداف یورپ کے حساس ترین مقامات میں سے تھے۔ برسلز میں یورپی یونین، نیٹو، بین الاقوامی ایجنسیاں اور کمپنیوں اور اس کے ساتھ ساتھ بیلجیئم کے اپنے حکومتی دفاتر موجود ہیں۔

برسلز پر حملہ کیوں کیا گیا

اسلامی شدت پسندوں کے لیے نہ صرف بیلجیئم ایک اعلیٰ سطحی ہدف ہے بلکہ بیلجیئم میں اسلامی شدت پسندوں کے خلاف جدوجہد کی گئی ہے اور اس کے سینکڑوں شہریوں کو عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کی جانب سے لڑائی کے لیے ورغلایا گیا ہے۔

کئی شہروں میں اسلامی شدت پسندوں کے سیل موجود ہیں۔ لیکن اِن کی زیادہ تر سرگرمیاں برسلز اور جنوب مغرب بالخصوص مولن بیک کے مضافاتی علاقے میں ہوتی ہیں۔ مولن بیک ایک ایسا علاقہ ہے جہاں مراکش کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بیلجیئم میں زیادہ تر لوگ جہادیوں کی جانب سے اس گرفتاری کے ردِعمل کی توقع کررہے تھے

گذشتہ سال نومبر میں پیرس حملوں میں 130 افراد کو ہلاک کرنے والے متعدد بمبار اور بندوق بردار مولن بیک میں رہتے تھے۔ پیرس حملوں کے مرکزی مشتبہ ملزم صالح عبدالسلام جو اِن حملوں کے دوران ہلاک نہیں ہوئے تھے اُن حملوں کے بعد بیلجیئم واپس آگئے تھے اور 18 مارچ تک پولیس سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے تھے۔ لیکن 18 مارچ کو انھیں اور ان کے ایک ساتھی کو مولن بیک میں زندہ گرفتار کرلیا گیا تھا۔

بیلجیئم میں زیادہ تر لوگ جہادیوں کی جانب سے اس گرفتاری کے ردِعمل کی توقع کررہے تھے۔ بیلجیئم میں جہاد کے موضوع کے ماہر پیٹر وان آسٹے آئیں کے مطابق ’مجھے یقینی طور پر توقع تھی کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا لیکن اتنے بڑے پیمانے پر ہونے کا اندازہ نہیں تھا۔‘

پہلے سے طے شدہ حملے یا انتقامی کارروائی؟

تو کیا منگل کے روز ہونے والے بم دھماکے گذشتہ جمعے کو دو اسلامی شدت پسندوں کی زندہ گرفتاری میں کامیابی کا بدلہ تھے؟ گرفتاریاں دولت اسلامیہ اور بیلجیئم کے جہادیوں کے لیے واضح دھچکا تھیں۔

صالح عبدالسلام کو پیرس حملوں میں لاجسٹکس کے ماہر کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وہ کرائے پر فلیٹ لینے، یورپ بھر سے عسکریت پسندوں کو نکالنے اور بم بنانے والے آلات کی خریداری کرتے ہیں۔ان کی گرفتاری کے ایک روز بعد اُن کے ایک ساتھی محمد بلقاید جو اُن کے ساتھ روپوش تھے، انھیں پولیس کی جانب سے گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ انھیں دولت اسلامیہ کے پرچم میں لپیٹا گیا تھا۔

فری یونیورسٹی برسلز کے پروفیسر ڈیو سنارڈیٹ کا کہنا ہے ’امکانی طور پر لگتا ہے کہ حملوں کی پہلے سے منصوبہ بندی کی جارہی تھی اور ان مخصوص گرفتاریوں کے بعد انھیں ترویج ملی کیوں کہ شدت پسند جانتے تھے کہ انھیں تلاش کیا جارہا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Horst Pilger
Image caption محصور پولیس فورس واضح طور پر تقریباً نہ رُکنے والے اسلامی شدت پسندوں کے خوف میں مبتلا تھی

اصل میں برسلز کی جانب سے پیرس حملوں کے دس روز بعد متعدد حملوں کا خطرے کے پیشِ نظر حفاظت کی کوششیں تھیں۔ شہر میں کئی دنوں کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جارہے تھے جو منگل کے روز زیادہ کیے گئے۔ جب پبلک ٹرانسپورٹ میں ایک رکاؤ سا تھا اور لوگوں کو اردگرد سفر سے منع کیا گیا تھا۔

کیا بیلجیئم کی سکیورٹی فورسز ناکام ہوگئیں؟

بھاری اسلحے سے مسلح شخص زوینتم میں ہوائی اڈے کے اندر داخل ہونے کے قابل تھا جس نے فائرنگ کی اور سب کو دھماکے سے اُُڑا دیا۔ ایک گھنٹے یا اس سے کچھ دیر بعد ایک اور شخص میٹرو ٹرین سٹیشن جو کہ یورپی یونین کے ہیڈکوارٹر کے بے حد قریب ہے ، میں داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اُڑا دیا۔

سکیورٹی فورسز نے نومبر میں ایسے ہی کسی دن کے لیے مشقیں کی تھیں، اسے دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ خطرہ دہشت گردی سے تھا اور کئی شہروں کی سڑکوں پر سپاہی پہلے ہی تعینات تھے۔

محصور پولیس فورس واضح طور پر تقریباً نہ رُکنے والے اسلامی شدت پسندوں کے خوف میں مبتلا تھی۔ اور اب تک یہ قانونی مسائل سے بھی دوچار ہے۔

برسلز ایک نسبتاً چھوٹا یورپی دارالحکومت ہے اور اب بھی اس کے پاس پولیس کے چھ زونز ہیں۔ اس کا سی سی ٹی وی سسٹم لندن اور پیرس کے مقابلے میں کم جدید ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہوائی اڈے کے حملے میں ملوث ایک مشتبہ ملزم منگل کے روز فرار ہوگیا تھا

پروفیسر سنارڈیٹ کا کہنا ہے کہ ’یہ بات واضح ہے کہ حفاظتی اقدامات کے سلسلے میں خامیاں موجود ہیں۔ کئی سالوں سے ہم نے شدت پسندی کے خطرات اور سکیورٹی کے مسائل کے حوالے سے کوئی توانائی خرچ نہیں کی۔‘ تاہم میڈرڈ، پیرس اور لندن حملوں کے عینی شاہد کے طور پر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس طرح کے شدت پسند حملوں سے بچنا بہت مشکل ہے۔

کیا مزید حملوں کا امکان ہے؟

بیلجیئم کے باشندوں کے لیے یہ بہت زیادہ عجیب سوال ہے۔ پولیس کی جانب سے متعدد مشتبہ افراد کی فوری تلاش کی کوشش کی جارہی ہے۔

ہوائی اڈے کے حملے میں ملوث ایک مشتبہ ملزم (تصویر میں دائیں جانب ہیٹ میں موجود ایک شخص) منگل کے روز فرار ہوگیا تھا اور پولیس پہلے ہی بہت فعال انداز میں پیرس حملوں کے بعد سے دو مشتبہ ملزمان کی تلاش کررہی تھی جنھیں صالح عبدالسلام کا ساتھی بتایا جاتا ہے۔

پیرس حملوں کے ایک اور فرار مشتبہ ملزم نجیم لاشاروئی جن کے فنگر پرنٹس برسلز کے ایک فلیٹ جہاں پیرس حملے کے بم تیار کیے گئے تھے، سے ملے تھے اور دوسرے ملزم کا نام محمد ابرینی ہے جو کہ بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے شدت پسند ہیں۔

امریکی انسداد دہشت گردی کے ماہر کلانٹ واٹ کو یقین ہے کہ برسلز دھماکے ، پیرس حملوں کے اثرات کے نتیجے میں ہوئے ہیں۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا وہ مزید خون خرابے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں یا نہیں۔

اسی بارے میں