سرب رہنما نسل کشی کے مجرم، 40 سال قید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رادووان کراجچ نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا انکار کیا تھا اور انھیں بری ہونے کی توقع تھی

نیدرلینڈ کے شہر دا ہیگ میں اقوامِ متحدہ کے ججوں نے بوسنیا کے سابق سرب رہنما رادووان کراجچ کو نسل کشی اور جنگی جرائم کا مجرم قرار دے کر 40 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

70 سالہ کراجچ وہ اعلیٰ ترین سیاسی شخصیت ہیں جن کو یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔

٭ کراجچ کی سزا کی خبر کے بعد بوسنیا میں حالاتِ زندگی معمول پر

دا ہیگ میں اقوامِ متحدہ کے ججوں نے انھیں 11 میں سے دس الزامات میں مجرم قرار دیا، جس میں 1995 میں سربرینکا میں ہونے والی نسل کشی بھی شامل ہے۔

اس مقدمے کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے جنگی جرائم کا اہم ترین مقدمہ سمجھا جا رہا ہے۔

کراجچ نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا انکار کیا تھا اور انھیں بری ہونے کی توقع تھی۔

ابتدائی تحقیقات میں عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ کراجچ بوسنیا کے کئی علاقوں میں انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہیں، البتہ ان پر وہاں نسل کشی کا الزام ثابت نہیں ہوا۔

البتہ انھیں سربرینکا میں ہونے والے جرائم کا ذمہ دار قرار دیا گیا جہاں سربیائی فوج نے سات ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کا قتلِ عام کیا تھا۔

کراجچ کا کہنا ہے کہ شدت پسندی کے واقعات میں تنہا عمل کرنے والے سرکش لوگ شامل تھے نہ کہ ان کی کمان والے فوجی۔

ان کے خلاف نسل کشی، قتل و غارت، زبردستی انخلا، اور انسانیت کے خلاف جرائم کے 11 الزامات عائد کیے گئے تھے۔

کراجچ کا مقدمہ آٹھ سال تک چلتا رہا جس میں انھوں نے خود اپنی پیروی کی۔

جج او گون کوان نے کہا کہ کراجچ ’اس قتل کی منصوبہ بندی سے متفق تھے۔‘ انھیں سرائیوو شہر میں انسانیت کے خلاف جرائم کا بھی مرتکب قرار دیا گیا جہاں 12 ہزار سے زائد لوگ مارے گئے تھے۔

بوسنیا کی جنگ میں کم از کم ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ جنگ چار سال تک چلتی رہی جس کے بعد 1995 میں امریکہ کی سربراہی میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت اس کا خاتمہ ہوا۔

کراجچ کے علاوہ راتکو ملادچ کے مقدمے کا فیصلہ بھی ابھی آنا باقی ہے۔ وہ بھی بوسنیا کے جنگ کے دوران سرب فوجوں کے کمانڈر تھے۔

اسی بارے میں