کویت کا پرتعیش سہولیات میں کمی پر غور

Image caption تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے بعد کویت کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا یہ فوائد اگر وہ آسائشیں ہیں جس کا وہ متحمل نہیں ہو سکتا

دنیا میں تیل کے ذخائر سے مالا مال چھٹے بڑے ملک کویت کی مجموعی تیرہ لاکھ کی آبادی بعض پرتعیش فوائد کی عادی ہے۔ جن میں گھروں کے لیے سود سے پاک قرضے، مفت تعلیم ، مفت طبی سہولیات اور خوراک اور تیل کے رعایتی نرخ شامل ہیں۔

لیکن کئی دوسری خلیجی ریاستوں کی طرح تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کے بعد کویت کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آیا یہ فوائد وہ آسائشیں ہیں جس کا وہ متحمل نہیں ہو سکتا۔

گذشتہ ماہ ملک کی پارلیمان کے سپیکر مرذوق الغنیم نے خبردار کیا تھا کہ اسی طرز میں خرچ کیا جاتا رہا تو یہ معاشی خودکشی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا ’ہم کویت کے لوگوں سے جھوٹ نہیں بول سکتے۔ ہم یہاں آ کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم آپ کے جیبوں کے حفاظت کریں گے اور شہریوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘

’ہر کسی کی جیب پر اثر پڑے گا۔ یہ حقیقت ہے۔‘

جنوری میں ملک کے امیر شیخ الصباح الصباح نے کہا تھا کہ ’اخراجات کے لیے بہتر انتظام اور آمدنی میں کمی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے بجٹ میں کٹوتیوں کی ضرورت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملک کی پارلیمان کے سپیکر مرذوق الغنیم نے خبردار کیا تھا کہ اسی طرز میں خرچ کیا جاتا رہا تو یہ معاشی خودکشی ہوگی

تاہم حکومت کی جانب سے ڈیزل اور مٹی کے تیل پر دی جانے والی رعایت کے خاتمے کی کوشش کو گذشتہ برس ارکانِ پارلیمان تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

دباؤ کے بعد یہ رعائتیں بحال کر دی گئی تھیں تاہم یہ طے کیا گیا کہ ان کا ہر ماہ تیل کی عالمی قیمتوں کے تناظر میں جائزہ لیا جائے گا۔

کویت کے قائم مقام وزیرِ خزانہ انس الصالح نے رواں ماہ اعلان کیا تھا کہ کابینہ نے ایک ایسے منصوبے کی منظوری دی ہے جس میں کویت کے بجٹ خسارے میں کمی کے لیے کیے جانے والے اقدامت کے تحت بڑی کمپنیوں کے منافع پر دس فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

انس الصالح کے مطابق بعض سرکاری املاک کی نجکاری کی جائے گی جن میں ہوائی اڈے اور کویٹ پٹرولیم کارپوریشن شامل ہے۔

کویت کے ایک وکیل مشعری السواغ کا خیال ہے کہ ایسے اقدامات کے نفاذ میں حکومت کی ترحیجات بے محل ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’کویت میں ہمارا مسئلہ پیسہ نہیں ہے بلکہ بد انتظامی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ رعایت میں کمی سے نہ صرف کویتی شہری متاثر ہوں گے بلکہ ان سے 29 لاکھ غیر ملکی افرادی قوت بھی متاثر ہوگی۔

ان کا کہنا تھا ’مثال کے طور پر پیٹرول پر سبسڈی ہٹانے سے کئی غیر ملکی واپس جانے کے بارے میں سوچیں گے کیونکہ وہ یہاں رہنے کے اخراجات برداشت نہیں کر سکیں گے۔ اور اس سے ہماری معیشت پر بھی اثر پڑے گا‘

طبی سیاحت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرکاری آڈٹ بیورو کے مطابق سنہ 2014 میں حکومت نے 11000 طبی دوروں پر 44 کروڑ 10 لاکھ دینار خرچ کیے

عوامی اخراجات کا ایک اور پہلو جو جانچ پڑتال کے لیے چنا گیا ہے وہ ہے طبی سہولیات۔

فی الوقت ہزاروں کویتیوں کو علاجے معالجے کے لیے امریکہ اور یورپ سمیت کئی مممالک میں بھیجا جاتا ہے۔

کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی بار لوگوں نے اس سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سرکاری خرچ پر بیماریوں کا بہانہ کر کئی مہینے ملک سے باہر گزارے۔

سرکاری آڈٹ بیورو کے مطابق سنہ 2014 میں حکومت نے 11000 طبی دوروں پر 44 کروڑ 10 لاکھ دینار خرچ کیے۔

ان نام نہاد طبی دوروں پرآنے والے میں اخراجات میں کمی کے لیے حکومت نے مریضوں اور ان کے ساتھ جانے والوں کو دیا جانے والا یومیہ خرچہ بند کرنے کا اعلان کیا گیا۔

لیکن ارکانِ پارلیمان نے حکومت کو اپنے فیصلہ پر دوبارہ غور کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ صرف ان مریضوں کو باہر علاج کے لیے بھیجا جائے جن کے لیے خصوصی علاج ناگزیر ہے۔

لندن میں پلاسٹک سرجری میں تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹر احمد باقر العلی کا کہنا ہے کہ اس طبی سیاحت میں اضافے کی وجہ کویت کے طبی نظام میں خامیاں ہیں۔

مثال کے طور پر کویت میں کینسر کے زیادہ تر مریضوں کا علاج ملک سے باہر کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر علی کا کہنا ہے کہ ’ہمارے پاس کئی تربیت یافتہ نوجوان ڈاکٹرز ہیں لیکن انھیں ان مریضوں کے بارے میں نہیں بتایا جاتا۔‘

’یہ معاملہ معیاری ڈاکٹرز کا نہیں ہے۔ ہم دنیا کے بہترین اداروں سے تربیت یافتہ ہیں۔‘

مسئلہ انتظامی مسائل اور بنیادی ڈھانچے کا ہے۔ اس کا کوئی فوری حل تو نہیں ہے لیکن حکومت کو اسی کا حل تلاش کرنا ہے۔‘

اسی بارے میں