دورۂ کیوبا کے حیران کن لمحے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اوباما اپنے پورے خاندان کو ساتھ لے کر کیوبا گئے تھے

امریکی صدر براک اوباما کا رواں ہفتے کا دورہِ کیوبا، تاریخ ساز لمحات کے علاوہ حیرتوں سے بھی پر تھا۔

شاید یہ دورہ ناگزیر تھا۔ آخری امریکی کے صدر کے دورہ کیوبا کے تقریباً 90 سال بعد اور یقینی طور پر سنہ 1959 میں فیدل کاسترو کے اقتدار میں آنے کے بعد، یہ کسی بھی امریکی صدر کا کیوبا کا پہلا دورہ تھا۔ اِس کو تاریخ ساز تو ہونا ہی تھا۔

مجھے اِس بات کا یقین نہیں ہے کہ ’خاندانی سفارت کاری‘ حقیقی تعلیمی اصطلاح ہے یا نہیں، لیکن اگر یہ ہوتی تو اِس کی تعریف ’اوباما ہوانا میں‘ کی جاتی ہے۔

کیوبن باشندوں میں خاندانی نظام کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ اور میرے خیال میں یہاں بہت سارے لوگوں نے اِس عمل کو سراہا بھی ہے کہ صدر کے دورے میں اُن کے ہمراہ خاتون اوّل مشیل اوباما اور اُن کی صاحبزادیاں بھی موجود ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اِس تاریخی دورے پر اپنی ساس کو بھی لے کر آئے ہیں۔

یہ پرانے دشمن کے گھر کا سرد اور سوچا سمجھا سفارتی مشن نہیں تھا۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکی صدر واقعتاً اپنی صاحبزادیوں کو تاریخ کا تجربہ اور خود سے کیوبا کا نظارہ کرانا چاہتے تھے۔ ازراہِ مذاق اُنھوں نے بتایا کہ اُن کی بچیوں کو اپنے والدین کے ہمرا چھٹیاں گزارنا پسند نہیں ہے، لیکن یہ وہ ایک سفر ہے، جس کا موقع وہ کھونا نہیں چاہتی تھیں۔

کون سے سیاسی قیدی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اوباما نے اپنے فنِ خطابت کا خوب مظاہرہ کیا

امریکی صدر اور اُن کے اہل خانہ بیس بال میچ کے دوران کیوبا کے صدر راؤل کاسترو کے برابر والی نشست پر موجود تھے۔ یہ اس بدترین امریکی سامراج کی تصویر ہرگز نہیں تھی، جسے کیوبا کی نسلوں کو امریکہ کی برائی کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔

یہ دورہ عمومی طور پر بہت اچھا رہا لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر چیز منصوبے کے مطابق ہوئی ہو۔

سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ راؤل کاسترو دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔ جو وہ عام طور پر نہیں کرتے۔

جہاں تک میں دیکھ سکتا ہوں ایسا پہلی بار ہوا تھا، اور شاید یہی اِس دورے کا سب سے پریشان کن لمحہ بھی تھا۔

جب کیوبن نژاد امریکی صحافی کی جانب سے صدر کاسترو کو کیوبا میں انسانی حقوق کے معاملات پر چیلنج کیا گیا تو کاسترو غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے کہ آیا سوال براہ راست اُن سے تھا یا نہیں، جس کے بعد اُنھوں نے درمیان میں ہی اپنے مہمان کو ٹوک دیا۔ ’کون سے سیاسی قیدی؟ آپ مجھے سیاسی قیدیوں کی فہرست دیں اور میں اُن کو فوری طور پر رہا کر دوں گا۔‘

ہم باآسانی فرض کر سکتے ہیں کہ کیوبا میں سیاسی قیدی نہیں ہوں گے، کیونکہ کیوبا اُن کو سیاسی قیدی نہیں سمجھتا۔

جس کے بعد امریکی صدر اوباما نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے کیوبا کے حکام کو ایسی کوئی فہرست نہیں دی گئی، لیکن اس طرح کے اختلافات سے نمٹنے کے لیے یہ رابطے درست سمت میں قدم ہیں۔

اوباما کا فنِ تقریر

تصویر کے کاپی رائٹ AP

بہرحال یہ ایک حیرت انگیز لمحہ تھا۔

ہم اِس بات کی اُمید کر سکتے ہیں کہ اِس دورے کے بعد کاسترو عالمی ذرائع ابلاغ کے ساتھ مزید گُھل مل جائیں گے۔

لیکن مجھے صدارتی دفتر سے فون کال کی توقع نہیں ہے، جس میں وہ مجھے جلد کسی وقت صدر کاسترو کے تفصیلی انٹرویو کی دعوت دیں۔

انسانی حقوق اور جمہوریت کے معاملات کی وجہ سے دورے کے دوران ہلکی کشیدگی کی فضا یدا ہو گئی تھی۔ لیکن یہ رکی نہیں اور پورے دورے کے دوران یہ وقفے وقفے سے جاری رہی۔

کیوبا کے شہریوں کے لیے سب سے غیر معمولی لمحہ قوم سے ٹی وی پر خطاب تھا۔ اِن میں سے کئی افراد نے موجودہ امریکی صدر کے سرکاری دورے کا تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔

اوباما سامعین کو متاثر کرنے والے خطیب ہیں۔ یہاں اُنھیں اپنے اوپر بہت زیادہ یقین بھی تھا، اُنھوں نے اپنے سامعین کے لیے مصالحت آمیز اور تحمکانہ اندازِ گتفتگو کے درمیانی راستے کا انتخاب کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ ’میں یہاں امریکہ میں سرد جنگ کی باقیات کو دفن کرنے کے لیے آیا ہوں۔‘

لیکن اُنھوں نے لاطینی امریکہ میں واشنگٹن کی غلطیوں کے از سرِ نو جائزہ کی بات نہیں کی۔ اُنھوں نے واضح کیا کہ وہ ’بے آف پگس‘ کی شکست کے ایک سال بعد پیدا ہوئے تھے اور وہ ماضی سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

وہ براہ راست راؤل کاسترو اور کیوبا کی کمیونسٹ پارٹی کے جمع ہونے والے اراکین سے مخاطب تھے۔ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ لاکھوں افراد گھر پر بیٹھ کر ٹی وی کے ذریعے سے اُن کو دیکھ یا بذریعہ ریڈیو سُن رہے تھے۔

’نظریات ہر انقلاب کے لیے نقطہ آغاز ہوتے ہیں۔ امریکی انقلاب یا کیوبا کا انقلاب، دنیا بھر میں آزادی کی تحریکیں، جو نظریات اپنے حقیقی احساسات کے اظہار کو تلاش کر لیتے ہیں۔ مجھے جمہوریت پر یقین ہے۔‘

اُنھی کی سرزمین پر قوم سے براہ راست خطاب کے دوران کمال ہوشیاری سے اِس جملے کو تبدیل کر دیا گیا، اِس جملے کی روح میں کیوبا کے انقلابی اصولوں کو اُنھی کے رہنماؤں کے خلاف استعمال کیا گیا۔

زخم بھر گئے؟

صدر اوباما نے کہا کہ وہ ’تاریخ سے واقف ہیں، لیکن اُس میں پھنسنا نہیں چاہتے۔‘ شاید یہ فیدل کاسترو کی مشہور تقریر ’تاریخ مجھے آزاد کر دے گی‘ کی گونج تھی۔

اگرچہ اُنھوں نے دونوں کو تقسیم کرنے والے مسئلے پر اپنے موقف کی وضاحت کرنے سے اجتناب نہیں کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر یہ آزادانہ اور ایماندرانہ تعلق ہے تو کیوبا والوں کو یہ معلوم ہوناچاہیے کہ وہ کیا سوچتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اب دیکھنا یہ ہو گا کہ اوباما اور کاسترو کے جانشین ان تعلقات کو کس نہج پر لے کر جاتے ہیں

’میرا خیال ہے کہ شہریوں کو کسی بھی خوف کے بغیر حکومت پر تنقید کرنے اور اُس کے خلاف منظم ہونے اور پرامن احتجاج کرنے، اور اُن کے خلاف اپنے ذہن کے مطابق بات کرنے کے لیے آزاد ہونا چاہیے۔ جو لوگ اِن باتوں پر عمل پیرا ہوں، تو قانون کی حکمرانی میں اُن کے لیے ظالمانہ گرفتاریاں شامل نہیں ہونی چاہییں۔‘

کیوبا کے جن شہریوں اور کیوبن نژاد امریکی شہریوں نے اِن مختلف واقعات کو دیکھا ہے، اُنھوں نے میرے سامنے اِس بات کا انکشاف کیا ہے کہ اُنھیں اِس دورے کے دوران کئی لمحوں پر رونا آیا، خصوصی طور پر صدر اوباما کی تقریر کے دوران۔

اِس میں ماضی کے زخموں کے بھرنے کا احساس تھا۔ نئے تعلق کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اور یہ بہت ہی عمدہ بات ہے۔

جلد ہی اس تعلق کو آگے بڑھانے کا انحصار اوباما اور راؤل کاسترو کے جانشینوں پر ہو گا۔