95 برس کے بعد امریکی بحریہ کے لاپتہ جہاز کی دریافت

تصویر کے کاپی رائٹ Handout via Reuters
Image caption یو ایس ایس کنیسٹیگا سان فرانسسکو سے جاپان کے پرل ہاربر جانے کے لیے روانہ ہوئی تھی لیکن 25 مارچ سنہ 1921 کو اچانک لاپتہ ہوگئی تھی

امریکہ میں حکام کے مطابق امریکی بحریہ کا ایک جہاز جو سنہ 1921 میں لا پتہ ہوگیا تھا تقریباً 95 برس کے بعد سان فرانسسکو کے ساحل کے قریب سے ملا ہے۔

اس دریافت ساتھ ہی امریکی بحریہ میں اس جہاز کے تعلق سے طرح طرح سے کی جانے والی قیاس آرائیاں بھی ختم ہوگئیں۔ اس جہاز پر عملے سمیت 56 افراد سوار تھے۔

جہاز کو کھینچنے والی طاقت وار کشتی یو ایس ایس کنیسٹیگا سان فرانسسکو سے جاپان کے پرل ہاربر جانے کے لیے روانہ ہوئی تھی لیکن 25 مارچ سنہ 1921 کو اچانک لاپتہ ہوگئی تھی۔

دی نیوی اینڈ نیشنل اوشیئن ایٹموسفیئرک ایڈمنسٹریشن نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ امریکی بحریہ کا یہ آخری جہاز تھا جو حالات جنگ میں نہ ہونے کے دوران لا پتہ ہوا تھا۔

ایک سینیئر امریکی اہلکار مینسن براؤن کا کہنا تھا کہ ’تقریباً ایک صدی کے ابہام اور لا پتہ ہونے کے ایک بھاری احساس کے بعد اب کنیسٹیگا کی گمشدگی کوئی راز کی بات نہیں رہی۔‘

فرانسسکو سے تقریباً 30 میل کے فاصلے پر مغرب میں اس جہاز کے ملبے کے بارے میں ابتدائی معلومات اس کے آس پاس کام کرنے والی ٹیم کو سنہ 2009 میں تقریباً 58 میٹر نیچے گہرے پانی ملی تھیں۔

فار لون جزائر سے تین میل کے فاصلے پر جنومب مشرق میں اس کا ملبہ ملا تھا لیکن اس کی تصدیق اکتوبر 2015 میں ہوسکی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ طوفانی موسم سے بچنے کے لیے جہاز کے عملے نے جب ایک محفوظ خلیج میں پناہ لینے کی کوشش کی تبھی کشتی غرق ہوئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Handout via Reuters
Image caption اس جہاز پر عملے سمیت 56 افراد سوار تھے

ملبہ سمندر کی تہہ میں تقریباً اسی حالت میں پڑا ہے لیکن لکڑی کا ڈیک اور دیگر ساز و سامان زنگ لگنے کے سبب ڈھل چکا ہے۔ جہاز کے آس پاس اینیمون پودے اگ آئے ہیں اور اس کے آس پاس مختف قسم کی سمندری حیاتیات نے ڈیرا جما رکھا ہے۔

ریموٹ کنٹرولڈ سسٹم سے اس کا جو ویڈیو حاصل کی ہے اس میں جہاز کا بھاپ والا انجن اور دیگر ساز و سامان بھی دیکھا جا سکتا ہے لیکن انسانی باقیات میں سے کچھ بھی دسیتاب نہیں ہے۔

جہاز سان فرانسسکو سے پرل ہاربر کے لیے روانہ ہوا تھا جس کی آخری منزل امریکہ میں ٹوٹوئیلہ تھی۔

محمکہ موسمیات کے ریکارڈ کے مطابق اس وقت وہاں تقریباً 37 سے 64 کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ہوائیں چل رہی تھیں اور سمندر میں خطرناک لہریں بھی اٹھ رہی تھیں۔

جہاز تقریبا چار ہزار کلومیٹر کے سفر پر نکلا تھا لیکن وہ جب پرل ہاربر پر نہیں پہنچا تو اس کی تلاشی کا کام شروع کیا گيا لیکن تلاش کا مرکز ہوائی تھا۔

اس جہاز کی تلاشی مہم کے متعلق امریکی ذرائع ابلاغ میں زبردست کوریج ہوئی تھی بالکل ایسے ہی جیسے حالیہ وقت میں ملائیشین ایئر لائنز کی فلائٹ ایم ایچ 370 کی گمشدگی کا واقعہ میڈیا کی توجہ کا مرکز رہی جو کوالالمپور سے بیجنگ جارہی تھی۔

اسی بارے میں