جب پوپ نے مسلمان پناہ گزینوں کے پاؤں چومے

Image caption پاؤں دھونے کی یہ رسم دراصل عیسائیوں کے مطابق حضرت عیسیٰ کی اس سنت کی پیروی ہے جس میں انھوں نے مصلوب ہونے سے قبل اپنے حواریوں کے پاؤں دھوئے تھے

کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے جمعرات کو روم کے قریب مسلمان، ہندو اور عیسائی پناہ گزینوں کے پیر دھوئے، انھیں چوما اور سب کو ’ایک خدا کے بچے‘ قرار دیا۔

پوپ نے یہ قدم اس وقت اٹھایا ہے جب برسلز میں ہونے والے تباہ کن حملوں کے بعد یورپ میں مسلمانوں کے خلاف جذبات ابھر رہے ہیں۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پوپ نے ان حملوں کو ’جنگی اقدام‘ کہہ کر ان کی مذمت کی اور کہا کہ ان کے ذمہ دار خون کے پیاسے وہ لوگ ہیں اسلحہ ساز کارخانوں سے منسلک ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ لوگ انسانیت کے بھائی چارے کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔

پاؤں دھونے کی یہ رسم دراصل عیسائیوں کے مطابق حضرت عیسیٰ کی اس سنت کی پیروی ہے جس میں انھوں نے مصلوب ہونے سے قبل اپنے حواریوں کے پاؤں دھوئے تھے۔

پوپ نے کہا: ’ہماری ثقافتیں اور مذہب مختلف ہیں، لیکن ہم سب بھائی بھائی ہیں، اور ہم امن سے رہنا چاہتے ہیں۔‘

پوپ جب مقدس پانی سے بھرا پیتل کا لوٹا لیے پناہ گزینوں کے آگے ان کے پاؤں دھونے کے لیے جھکے تو ان میں سے کئی اشکبار ہو گئے۔ پوپ نے ان کے پاؤں دھو کر انھیں پونچھا اور پھر بوسہ دیا۔

اسی بارے میں