یمن تنازعے کا ایک سال

تصویر کے کاپی رائٹ .

دنیا کے سب سے خطرناک اور سب سے کم خبروں میں آنے والا تنازعے کو ایک سال مکمل ہو رہا ہے۔

سعودی عرب کی سربراہی میں یمن میں باغیوں کے خلاف شروع کی جانے والی فضائی کارروائی کو رواں ہفتے سنیچر کے دن ایک سال مکمل ہو جائے گا۔

گذشتہ 12 ماہ کے دوران اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے اندازے کے مطابق کم از کم 32 سو عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ساڑھے پانچ ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ خیال ہے کہ 60 فیصد سے زائد زخمی اور ہلاک ہونے والے افراد فضائی حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

امن مذاکرات سے قبل عبوری جنگ بندی کا اعلانیمن میں فضائی حملوں میں درجنوں ہلاک
تصویر کے کاپی رائٹ

تنازعے کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مذاکرات جاری ہیں۔

اگر اگلے روز ہی جنگ ختم ہو جائے اور دوبارہ نہ شروع ہو تو بھی آج کا یمن ایک ٹوٹا پھوٹا ملک ہے جسے پرانے اور شدید مسائل کا سامنا ہے۔ تنازعے سے شدید متاثرہ آبادی کو آنے والے کئی برسوں تک امداد کی ضرورت ہے۔

یہ تنازع آخر شروع کیسے ہوا، کون کس سے لڑ رہا ہے، اور اس کا خاتمہ کس طرح ممکن ہے؟

تنازعے کا آغاز فضائی حملے شروع ہونے سے چھ ماہ قبل ستمبر 2014 میں ہوا تھا۔

حوثی باغیوں کی نظر میں حکومت بدعنوان اور امتیازی سلوک روا رکھے ہوئی تھی جس پہ مشتعل ہو کر شمال میں اپنے ٹھکانوں سے نکل کے انھوں نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا۔ اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ صدر منصور ہادی کو ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔

صدر ہادی بعد ازاں وہاں سے بھاگ کر پڑوسی ملک سعودی عرب چلے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ .

چھ ماہ کے اندر حوثی باغی مغربی یمن پر قابض ہو چکے تھے جبکہ پست حوصلہ حکومتی افواج نے زیادہ تر مشرقی علاقہ پسپائی اختیار کرتے ہوئے القاعدہ کے لیے خالی چھوڑ دیا تھا۔

یمن میں اقلیت میں ہونے کے باوجود حوثی باغیوں نے سابق صدر عبدللہ صالح کے ساتھ اتحاد کر کے اہم کامیابیاں حاصل کر لیں۔

سنہ 2011 میں عرب ممالک میں جمہوریت کی حمایت میں اٹھنے والی لہرکے باعث صدر صالح کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ تاہم وہ یمن میں ہی قیام پذیر رہے اور فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کئی افراد کی وفاداریاں ان کے ساتھ تھیں۔

اپنے دور حکومت میں حوثی باغیوں کے خلاف غیر فیصلہ کن چھ جنگوں کے باوجود انھوں نے اپنے جانشین کے دورِ صدارت کو نقصان پہنچانے کے لیے موقع غنیمت جانتے ہوئے اپنی افواج حوثی باغیوں کے حوالے کر دی تھیں۔

سعودی عرب پہلے ہی عرب دنیا میں اپنے پرانے حریف ایران کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ سے پریشان تھا، انھیں اس بات کا یقین ہو گیا تھا کہ یہ سب یمن میں ایران کے حمایت یافتہ مسلح جتھوں کو حکومت میں لانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

مارچ 2015 میں سعودی عرب کے نوجوان وزیر دفاع نے عجلت میں عرب فضائی افواج پر مشتمل ایک اتحاد تشکیل دے دیا تھا اور پھر 26 مارچ کو فضائی حملوں کا آغاز ہو گیا۔

سعودی عرب اور ان کے اہم اتحادیوں، متحدہ عرب امارات کو امید تھی کہ ان کی جانب سے کیا جانے والا بے پناہ طاقت کا استعمال اور بمباری حوثی باغیوں کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر مجبور کر دیں گے۔ خیال رہے کہ حوثی باغیوں کے پاس فضائیہ نہیں ہے۔

تاہم ایسا اب تک نہیں ہو سکا۔ 12 ماہ تک شدید جانی نقصانات کے بعد بھی سعودی قیادت میں قائم ہونے والا اتحاد محض چھوٹا سا علاقہ واپس لے سکا ہے جبکہ انھوں نے یمن کے جنوبی ساحلی شہر عدن کو دارالحکومت قرار دے دیا ہے۔

یورپ میں حملوں کی مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے اور یورپی پارلیمنٹ میں سعودی عرب پر ہتھیاروں کی پابندی کے حق میں غالب اکثریت نے ووٹ دیا ہے۔

سعودی عرب کو ہتھیاروں اور جنگی جہازوں کی ترسیل امریکہ اور برطانیہ سے ہوتی ہے۔ ان ہتھیاروں میں درست نشانے پر پہنچنے والے پیووے 4 میزائل بھی شامل ہیں۔

سعودی افواج کی جانب سے اصرار کیا جاتا رہا ہے کہ وہ انتہائی احتیاط کے ساتھ اہداف کا انتخاب کرتے ہیں اور بین الاقوامی انسانی قوانین اور مسلح تصادم کے قوانین کی مکمل پاسداری کی کوشش کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ

دوسری جانب حملوں کے دوران عام شہریوں کے نشانہ بننے کے حوالے سے کئی جامع دستاویزات موجود ہیں۔ ان میں رواں ماہ حجہ شہر کے نزدیک ایک پررونق بازار پہ حملے کا واقعہ بھی شامل ہے جس میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یمن کی حکومت کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور رواں سال 17 اپریل کو کویت میں ہوگا۔

اکثر کہا جاتا ہے کہ جنگ کا خاتمہ تب ممکن ہوتا ہے جب فریقین تھک جاتے ہیں اور لڑائی جاری رکھنا دونوں کے ہی مفاد میں نہیں رہتا۔

افسوس یہ ہے کہ یمن کا تنازع اس مرحلے سے ابھی خاصا دور ہے۔

ملک کی تباہی کا خود جائزہ لینے والی یمن کی ایک محقق نوال المغافی سمجھتی ہیں کہ جنگ نے یمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

المغافی کہتی ہیں کہ جنگ یمن کے بنیادی سماجی ڈھانچے کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہی ہے۔

آج بچوں کی بہت بڑی تعداد اپنے سکول کے بستے رکھ کے ان کی جگہ اپنے ہاتھوں میں بندوقیں اور رائفلیں اٹھا رہی ہے۔

اپنے مستقبل کے بارے میں مثبت توقعات نہ ہونے کے باعث زیادہ تر انتہا پسند تنظیموں القاعدہ اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ تک میں شمولیت کو ترجیح دے رہے ہیں۔

المغافی مزید کہتی ہیں کہ ممکنہ طور پر یمن آئندہ کئی برسوں تک غیرمستحکم رہے گا۔

اسی بارے میں