برسلز حملے، مبینہ ملزم پر فردِ جرم عائد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مبینہ ملزم کی رواں ہفتے کی دوران کی جانے والی ایک چھاپہ مار کارروائی میں گرفتار کیا گیا تھا

بیلجیئم میں استغاثہ نے برسلز بم حملوں میں ملوث ہونے کے شبہ میں ایک شخص پر فردِ جرم عائد کی ہے۔

حکام اس شخص کا نام فیصل بتا رہے ہیں اور اسے رواں ہفتے جعمرات کو گرفتار کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ برسلز میں ہونے والے بم حملوں میں 31 افراد ہلا ک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والے شدت پسند گروہ نے قبول کی تھی۔

استغاثہ کے بقول فیصل کی گرفتاری کے بعد ان کے گھر کی تلاشی لی گئی تھی تاہم وہاں سے کسی قسم کا کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہوا۔

’ایئرپورٹ پر حملہ کرنے والا بمبار پیرس حملوں میں شامل تھا‘

بیلجیئم کے استغاثہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق فیصل پر ’ دہشت گرد سرگرمیوں میں حصہ لینے ، قتل اور اقدامِ قتل کی دفاعات لگائی گئی ہیں۔‘

خیال رہے کہ اس سے قبل بیلجیئم کے حکام نے بتایا تھا کہ پیرس میں ہونے والے حملوں کے مشتبہ حملہ آور صلاح عبدالسلام نے منگل کے روز برسلز میں ہونے والے حملے کے بارے میں بات کرنے سے منع کر دیا ہے۔

استغاثہ نے کہا کہ عبدالسلام جو برسلز میں گذشتہ ہفتے گرفتار کیے گئے ہیں وہ ابتدا میں تعاون کر رہے تھے لیکن جب ان سے منگل کو ہونے والی دھماکوں کے بارے میں پوچھا گيا تو انھوں نے ’اپنے چپ رہنے کے حق‘ کا استعمال کرتے ہوئے کچھ بھی بتانے سے گریز کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption صلاح عبدالسلام نے برسلز حملے کے بارے میں بات کرنے سے انکار کر دیا ہے

دوسری جانب بیلجیئم کے حکام کا کہنا ہے کہ برسلز کا ایئرپورٹ مسافر بردار طیاروں کے لیے منگل سے پہلے نہیں کھلے گا۔ گذشتہ ہفتے ہونے والے بم دھماکے کے بعد پہلی بار انجینیئر اور ٹکنیشیئن ٹرمینل پر حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیں گے۔

خیال رہے کہ عبدالسلام کو برسلز میں ہونے والے حملے کے ایک دن قبل گرفتار کیا گیا تھا۔

دوسری جانب فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے برسلز اور پیرس حملوں میں ملوث عسکریت پسند گروہ کو صفحۂ ہستی سے مٹایا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فرانس اور بیلجیئم کے حکام مشتبہ ملزمان کی تلاش اور ان کی گرفتاری میں کامیاب رہے ہیں۔ تاہم انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ابھی بھی خطرہ موجود ہے۔

دریں اثنا اطلاعات کے مطابق جعمرات اور جعمے کو اس حوالے سے 12 افراد کو تین ممالک میں گرفتار کیا گيا ہے۔

ان میں سے بیلجیئم میں چھ کو جمعرات کو جبکہ تین کو جمعے کو گرفتار کیا گيا اور ان میں سے کئی کو بعد میں رہا کر دیا گيا۔ ان کے علاوہ تین افراد کو جرمنی میں جبکہ ایک شخص کو فرانس میں گرفتار کیا گيا۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ ایک بہت آگے تک پہنچ جانے والے منصوبے کو ناکام بنا دیا گيا ہے۔

دوسری جانب بیلجیئم کے حکام نے برسلز کے ایئر پورٹ پر حملہ کرنے والے دوسرے شخص کی شناخت نجم لشراوی کے نام سے کی ہے اور پیرس حملوں کے جائے وقوعہ سے اس شخص کے ڈی این اے کے نمونے ملے ہیں۔

یہ اطلاعات ایک ایسے وقت پر سامنے آئیں ہیں جب برسلز میں جمعرات کو حملوں کی تحقیقات کے دوران تین افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

استعغاثہ کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں پیرس حملوں کے سلسلے میں ایک چھاپے کے دوران ہوئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بیلیجیئم  کے حکام کو ’غیر ملکی جہادی‘ کے بارے میں خبردار کیا تھا لیکن انھوں نے اسے نظرانداز کیا‘: ترکی

برسلز میں گرفتاریاں شاربیک ضلعے میں ہوئیں جہاں پولیس آپریشن کے دوران کم از کم تین دھماکوں کی اطلاع ہے۔ ابھی تک گرفتار شدہ افراد کی نہ تو شناحت ظاہر کی گئی گئی ہے اور نہ ہی یہ واضع کیا گیا ہے ان کا تعلق منگل کے حملوں سے ہے یا نہیں۔

جمعرات کو ایک علیحدہ واقعے میں فرانس میں پولیس نے پیرس کے پاس ارجینٹوائی میں انسداد دہشت گردی کی ایک کارروائی کے تحت ایک مشتبہ شدت پسند کو گرفتار کیا جو حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

اسی بارے میں