شام کے قدیم شہر پیلمائرا میں تباہی کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ قدیمی شہر تقریبا دس ماہ تک شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے قبضے میں رہا جس کے دوران انہوں نے اس کے بعض بیش قیمتی چیزوں کو تباہ کر دیا

شام کے قدیم شہر پیلمائرا پر شامی فوج کے کنٹرول کے فوری بعد جو تصاویر سامنے آئی ہیں اس میں وہاں کے آثار قدیمہ کو پہنچنے والے نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ قدیمی شہر تقریباً دس ماہ تک شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے قبضے میں رہا جس کے دوران انھوں نے اس کے بعض بیش قیمت املاک کو تباہ کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دو ہزار برس بھی زیادہ پرانے دو مندر، ایک محراب اور جنازے کے لیے مخصوص ٹاور کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا تھا

لیکن تقریباً دو ہزار سال پرانے اس شہر کی بیشتر یادگاریں سلامت ہیں اور اپنی جگہ کھڑی پائی گئی ہیں۔

گذشتہ روز حکومتی افواج نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو شکست دے کر قدیم شہر پیلمائرا پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا تھا۔

شام کے صدر بشارالا سد نے پیلمائرا پر حکومتی افواج کے قبضے کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ UNESCO

صدر اسد کا کہنا ہے کہ پیلمائرا میں دولتِ اسلامیہ کو شکست شامی افواج اور اس کے اتحادیوں کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہترین کارکردگی کا مظہر ہے۔

یہ کامیابی روسی فضائیہ کی مدد سے حاصل کی گئی تھی اور روس کے صدر ولاد میر پوتن بھی نے اس موقع پر صدر بشار الاسد کو مبارک باد پیش کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پیلمائرا کے میوزیم کے داخلی دروازے کا ایک مجسمہ جو تباہ شدہ حالت میں پایا گيا

شام میں محکمہ آثار قدیمہ کے سربراہ مامون عبدالکریم کا کہنا ہے کہ حکام کو وہاں زبردست تباہی کی توقع تھی لیکن ویاسا نہیں ہوا۔

انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہاں کی زمین کی تزئین کاری کا بیشتر حصہ اچھی حالت میں ہے۔

دولت اسلامیہ نے یونیسیکو کے عالمی ورثے والے اس شہر اور اس کے پاس بسے نئے شہر پر مئی 2015 میں قبضہ کر لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیلمائرا کے پاس آباد نئے شہر سے اتوار کو یہ تصویر حاصل کی گئی تھی

اس شہر پر کنٹرول کے ساتھ ہی دولت اسلامیہ نے اس کے ماہر آثار قدیمہ کو قتل کر دیا تھا جو گذشتہ 40 برس سے اس کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔

حکمت علمی کے اعتبار سے پیلمائر ادارالحکومت دمشق اور مشرقی شہر دیرالزّور کے راستے پر حکمت عملی کے اعتبار سے بڑی اہم جگہ پر واقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption دوملت اسلامیہ اس قدیم تھیئٹر کو مخالفین کو سزا دینے کے لیے استعمال کرتی تھی جہاں لوگوں کے سر قلم کیے جاتےتھے

دولت اسلامیہ نے اس پر قبضہ کر نے کے بعد ہی بہت سے قیمتی یادگاروں کو تباہ کر دیا تھا جس کی عالمی سطح پر سخت مذمت کی گئی تھی۔

دو ہزار برس بھی زیادہ پرانے دو عبادت گاہیں، ایک محراب اور جنازے کے لیے مخصوص ٹاور کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption میوزیم کے اندر کا منظر جہاں بہت سا توڑ پھوڑ دیکھا جا سکتا ہے

اسی بارے میں