برازیل: پی ایم ڈی پی حکومتی اتحاد سے الگ

تصویر کے کاپی رائٹ Ag. Brasil
Image caption صدر روسیف کے خلاف مواخذے کی کارروائی جلد ہو سکتی ہے

برازیل میں صدر جیلما روسیف کی اتحادی حکومت میں شامل سب سے بڑی جماعت پی ایم ڈی پی نے حکومت سے فوری علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس کے بعد صدر روسیف کے خلاف مواخذے کی کارروائی جلد ہو سکتی ہے۔

حزبِ مخالف کے قانون ساز چاہتے ہیں کہ صدر جیلما روسیف کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا جائے کیونکہ انھوں نے بڑھتے ہوئے خسارے کو چھپانے کے لیے حساب کتاب میں ہھر پھر کی۔

منگل کو کی جانے والی رائے شماری میں کی وجہ سے صدر روسیف نے واشنگٹن کا دورہ منسوخ کر دیا جہاں وہ ایک اجلاس میں شرکت کرنے والی تھیں۔

برازیل کی ڈیموکریٹک موومنٹ پارٹی کے رہبنماؤں نے منگل کو ایک اجلاس میں فیصلہ کیا کہ صدر روسیف کی کابینہ میں اس کے باقی رہ جانے والے چھ وزرا بھی استعفی دے دیں ورنہ ان کے خلاف بھی ضابطۂ اخلاق کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

یہ اعلان پی ایم ڈی پی سے ہی تعلق رکھنے والے برازیل کے وزیرِ سیاحت ہینریک ایڈوآڈو ایلوس کی جانب سے استعفی دینے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار لورا بیکر کا کہنا ہے کہ اب صدر روسیف کو کانگرس کی جانب سے ان کے عہدے سے مئی تک معطل کر دیا جائے گا۔

ان کی جگہ ملک کے نائب صدر مچل ٹیمر لے لیں گے جو پی ایم ڈی بی کے رہنم ہیں۔ اس دوران سینیٹ یہ فیصلہ کرے گی کہ ان کو مستقل طور پر عہدے سے الگ کیا جائے یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ اعلان پی ایم ڈی پی سے ہی تعلق رکھنے والے برازیل کے وزیرِ سیاحت ہینریک ایڈوآڈو ایلوس کی جانب سے استعفی دینے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے

مبصرین کا کہنا ہے کہ پی ایم ڈی بی کے بیشتر قانون سازوں کو کچھ عرصے سے بائیں بازو کی جماعت کے ساتھ اتحادی حکومت میں مسائل درپیش تھے۔

اسی بارے میں