رشوت دینا کب جائز ہے؟

Image caption میکسیکو کی معیشت کا دس فیصد حصہ بدعنوانی ہڑپ کر لیتی ہے

بدعنوانی کے مسئلے نے میکسکو میں اتنی سنگین صورت اختیار کر لی ہے کہ لوگ چاہتے ہوئے بھی اس سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پا رہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار کیٹی واٹسن کہتی ہیں کہ آپ وہاں بڑی آسانی کے ساتھ بدعنوان اور رشوت خوروں کے ہاتھوں میں جا سکتے ہیں، اور آپ کو علم بھی نہیں ہو گا کہ آپ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

زیادہ عرصے پہلے کی بات نہیں، میں اپنے ایک دوست کے ساتھ میکسیکو سٹی کے جنوب کی جانب جا رہی تھی۔ میرے دوست گاڑی چلا رہے تھے اور میں نقشے پر راستہ تلاش کر رہی تھی۔ ہمارے سفر شروع کرنے کے فوراً بعد ہی ہمارے سیٹیلائٹ نے ہمیں بتایا کہ ہم نیچے چلے جائیں، لیکن ہمارا خیال تھا کہ سیٹیلائٹ ہمیں غلط بتا رہا ہے اور نیچے جانے والا راستہ بسوں کے لیے ہے۔

ہم میکسسیکو سٹی میں کافی عرصے سے تھے اور وہاں کے ٹریفک کے اہم قوانین سے بھی واقف ہو چکے تھے، اس لیے ہمیں لگا کہ قوانین کے تحت ہمیں اس لین میں نہیں جانا چاہیے۔ چنانچہ ہم نے ایسا ہی کیا اور اس کو پار کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ حالانکہ ایسا کرتے ہوئے ہم تھوڑے محتاط تھے اور راستہ بھی بھول چکے تھے، لیکن ہمارا خیال تھا کہ ہم بڑی مصیبت سے نکل آئے ہیں۔

لیکن ہم غلط تھے۔ تھوڑا ہی آگے جانے کے بعد ایک پولیس وین ہمارے پیچھے لگ گئی۔

ہمیں روکنے کے بعد وین میں سے ایک خاتون پولیس افسر باہر آئیں اور کہا کہ ’آپ کو معلوم ہی کہ آپ کیا کررہے ہیں؟ آپ بس لین میں گاڑی چلارہے ہیں۔‘

Image caption میکسیکو میں جرائم کی صورتِ حال نے بھی سنگین شکل اختیار کر لی ہے

میں نے انھیں بہت تمیز سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’دراصل ہم غلطی سے صحیح لین کو پار کرتے ہوئے آگے نکل آئے ہیں۔‘

اس کے بعب ہم یہی توقع کر رہے تھےکہ وہ خاتون ایک دوستانہ سی مسکراہٹ کے ساتھ یہ کہ کر چھوڑ دیں گی کہ ’ٹھیک ہے آئندہ ایسی غلطی نہیں ہونی چاہیے۔‘

لیکن ہم سے کہا گیا کہ ’اس جرم کی سزا 2800 پیسو (160 ڈالر) ہیں۔ اس لیے پلیز آپ آپ دوسری جانب آ جائیں۔‘

ہم نےایسا ہی کیا۔ جب ہم وہاں پہنچ گئے تو ہمیں ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کے لیے کہا گیا۔ ایک تو یہ کہ ہم گاڑی پولیس کی تحویل میں دے دیں اور ٹرانسپورٹ ڈیپو میں جرمانہ ادا کروانے کے بعد گاڑی واپس لے جائیں، اور دوسرا یہ کہ ہم ابھی پولیس کو کچھ رقم ادا کر دیں اور اپنا سفرجاری رکھیں۔ ہمیں دوسری والی بات زیادہ بہتر اور قابل عمل لگی۔

جب ہم نے پولیس کو بتایا کہ ہماری جیب میں تو اتنی رقم ہی نہیں ہے، تو انھوں نے ہمیں کیش مشین تک لے جانے کی پیشکش کی۔ یہاں مجھے شک ہوا کہ کچھ غلط ہو رہا ہے۔

مجھے یقین تھا کہ ہمارے ملک میں ایسا کبھی نہیں ہوتا لیکن یہاں میرے ساتھ ایسا پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ مجھ سے کوئی غیر قانونی کام کروایا جا رہا تھا۔ اور سچ تو یہ ہے کہ وہ یہ کام اس مہارت سے کر رہے تھے کہ احساس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ ہم سے رشوت لی جا رہی ہے۔

ہم نے پیسے نکالے، پولیس کو دیے اور رسید طلب کی۔ جس پر ہم سے کہا گیا کہ’مشین خراب ہوگئی ہے۔‘

ہم ابھی تک اپنے آپ سے سوال کر رہے تھے: ’کیا ہم نے ابھی ابھی رشوت دی ہے؟‘

خاتون پولیس نے کمپیوٹر سکرین پر دیکھے ہوئے نہایت خوش دلی سے میرے دوست سے کہا کہ ’سر آپ کا لائسنس کلیئر کر دیا گیا ہے۔‘

ہم نے سوچا کیا خوب بات ہے ’لائسنس کلیئر ہے لیکن پولیس بدعنوان!‘

Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ میکسیکو کے لوگ بدعنوان ہیں جس پر وہاں احتجاج کیا گیا

بعد میں ہم نے اس واقعے کی شکایت پولیس سٹیشن میں بھی کی لیکن حیرت انگیز انگیز طور پر وہ بھی ہماری خاص مدد نہ کر سکے۔

اس پورے واقعے کے بعد سے میں شدید غصے کی حالت میں تھی اور اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہی تھی۔ میں یہ بھی سوچ رہی تھی اس سے بھی زیادہ برے حالات میں میکسیکو کے عام لوگ کتنے مجبور اور بے بس ہوتے ہوں گے۔ میکسیکو وہ ملک ہے جہاں 98 فیصد قتل کے جرائم کا کوئی فیصلہ نہیں ہوتا۔ یہاں سزائیں معاف کر دینے کا رواج خطرناک صورت حال اختیار کرتا جا رہا ہے۔

دنیا کی 15 ویں بڑی معیشت میکسیکو میں بدعنوانی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک کی مجموعی پیداوار کا دسواں حصہ بدعنوانی میں غائب ہو جاتا ہے۔ یہ بہت ہولناک بات ہے۔

میکسیکو میں انسداد بدعنوانی کی ایجنسی کے ساتھ کام کرنے والی ماریا امپارو سازار کا کہنا ہے کہ ’ہمارے یہاں قانون کی حکمرانی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ بدعنوانی ہر جگہ موجود ہے۔ یہ نہ صرف سرکاری اداروں میں بلکہ پرائیوٹ سیکٹر کے علاوہ عام شہریوں کی زندگی میں بھی سرایت کرچکی ہے۔‘

اس مسئلے کے حل کے لیے دانشوروں استادوں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ’3 آف 3‘ کے نام سے ایک مہم شروع کر رکھی ہے۔ ان کا مقصد ملک میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سخت قوانین بنوانا اور سیاست دانوں کا احتساب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاست دانوں سے تین چیزوں کا حساب مانگاجائے، ان کے اثاثے، ان کا منافع، اور ان کے ٹیکس۔ یہ مہم ابھی تک کامیاب رہی ہے اور انھوں نے تین لاکھ لوگوں کے دستخط حاصل کر لیے ہیں جس کا مطلب ہے کہ اب سینیٹ پر لازم ہے کہ ان کی تجویز پر غور کرے۔

وہاں کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بد عنوانی ان کے معاشرے کا حصہ بن چکی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی اس بات میں یقیناً وزن ہے کہ میکسیکو کے لوگ بدعنوان ہیں۔ حتیٰ کہ میکسیکو کے صدر اینرک پینا نیٹو نے بھی کہا ہے کہ بدعنوانی ایک سماجی مسئلہ ہے۔ لیکن ’3 آف3‘ کے ایک اور رکن کارڈیناز سانچیز اس خیال سے اختلاف کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میرا خیال ہی کہ بدعنوانی کوئی سماجی مسئلہ نہیں ہے۔ میکسیکو سے ہزاروں کی تعدا میں لوگ امریکہ گئے ہوئے ہیں اور وہ بدعنوان نہیں ہیں۔ کیونکہ امریکہ میں ادارے مضبوط ہیں، قانون پر سختی سے عمل ہوتا ہے، جس کی وجہ سے کسی کو گڑبڑ کرنے کا موقع نہیں ملتا۔‘

میں میکسیکو کے انسٹیٹیوٹ آف کمپیٹیٹونیس کے سربراہ جان پارڈیناز سے ملی۔ میکسیکو میں کرپشن کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے میں نے ان کا موازنہ برطانوی پارلمینٹ کے خرچوں کے سکینڈل سے کرنے کی کوشش کی۔ جس پر پارڈیناز نے کہا کہ ’ہاں! میں نے وہ خبر پڑھی ہے۔‘ اور ہنستے ہوئے کہنے لگے کہ ہم میکسکیو کے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر برطانوی سیاست دان نے اپنے گھر میں سیٹیلائٹ ٹی وی کا مطالبہ کیا تھا، تو میکسیکو کا سیاست دان پورے گھر کا ہی دعویدار ہوتا۔

لیکن پھرانھوں نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت میکسیکو کو منظم جرائم، تشدد، غربت، معاشی بدحالی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ان مسائل کی وجہ سے ریاست پولیس یا سیاست دانوں کو سزا دینے میں بھی ناکام رہی ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بدعنوانی کے مسئلے سے نمٹے بغیر ہم میکسیکو کے دیگر مسائل بھی حل نہیں کرسکتے۔‘

اسی بارے میں