’میری داستان سننے کے لیے آپ کا شکریہ‘

یہ کہانی ایک اب بیتی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شاندرہ وورنتو اپنی تین سالہ بیٹی پرورش کے لیے ملک سے باہر بھی کام ڈھونڈنا شروع کیا

شاندرہ وورنتو امریکہ اس امید سے گئی تھیں کہ وہ ہوٹل کی صنعت میں کام شروع کر سکیں لیکن کہانی کچھ اور نکلی۔ جب وہ امریکہ پہنچیں تو پتا چلا کہ انھیں زبردستی غیر قانونی طور پر عصمت فروشی کی طرف دکھیل دیا گیا جہاں نشہ کی ادویات اور جنسی غلامی کی زندگی تھی۔

معاشیات کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انڈونیشیا میں ایک بین الاقوامی بینک میں کام کررہی تھیں لیکن 1998 میں ملک کے مالی بحران کی وجہ سے کام بھی ختم ہو گیا پھر انھوں نے اپنی تین سالہ بیٹی کی خاطر ملک سے باہر بھی کام ڈھونڈنا شروع کیا ۔

’میرا ارادہ یہ تھا کہ میری بیٹی میری ماں اور بہن کے پاس رہتی اور میں امریکہ میں چھہ ماہ کے لیے کام کرنے کے بعد واپس آ جاتی۔ مجھے ہر ماہ 5000 ڈالر ملنے تھے۔ ‘

اخباروں میں ہوٹلوں کی صنعت میں کافی کام کے حوالے سے اشتہار تھے۔ امریکہ، جاپان، ہانگ کانگ اور سنگاپور میں بھی لیکن میں نے امریکہ میں کام کے لیے درخواست دی۔ اس کام کے لیے صرف یہ چیز لازمی تھی کہ تھوڑی انگریزی بولنا آتا ہو اور تقریباً 2700 ڈالر کی فیس دینا تھی۔ بہت انٹرویو لیے گئے اور ان کے سامنے آگے پیچھے چلنے کو بھی کہا گیا۔ وہ مجھے بار بار بتائے جاتے تھے کہ ’گاہک کے لیے اچھا سروس مہیہ کرنا بہت اہم ہے‘۔

وہ امریکہ 2001 میں جون کے مہینے میں ’مواقع کی سرزمین‘ میں پہنچ کر بے حد خوش ہوئیں۔انڈونیشیا میں مجھے منتخب کرنے والی ایجینسی نے مجھے ایک بہت تنگ شرٹ پہنائی اور امریکہ پہنچ کر ہوائی اڈے پر مجھے ’جونی‘ نامی شخص لینے آیا۔

میں جے ایف کینڈی کے ہوائی اڈے پر پہنچی جہاں چار اور عورتیں بھی موجود تھیں۔ جونی نے میرے سارے کاغذات مجھ سے لے لیے جسں میں میرا پاسپورٹ بھی موجود تھا۔ دو عورتوں سمیت وہ مجھے اپنی گاڑی میں لے گیا اور اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ شاید کچھ گڑ بڑ ہے۔ ہم ایک ساتھ تین عورتیں تھیں اور چار مرتبہ رک رک کہ ہمیں مختلف گاڑیوں میں لیجایا گیا اور ہر دفعہ نئے ڈرائیور کو پچھلا ڈرائیور پیسے دیتا تھا۔

آخری ڈرائیور کے پاس بندوق تھی اور وہ ہمیں’ بروکلین‘ میں ایک گھر میں لے گیا۔ جب وہاں پہنچے تو اس نے دروازے پر زور زور سے کھٹکھٹایا اور کہا ’ ماما سین! نئی لڑکیاں آئی ہے ‘ ۔ یہ سن کر میں اتنی زیادہ گھبرائی کیونکہ مجھے پتا تھا کہ ماما ’سین‘ کا مطلب عصمت فروشی کے اڈے کی سربراہ ہے۔ لیکن اس آدمی کے پاس بندوق تھی اور اس وقت میں بھاگ بھی نہیں سکتی تھی۔ دروازہ کھلا اور ایک 13سال کی لڑکی زمین پر پڑی چیخ رہی تھی اور کئ مرد اسے زور زور سے پاوں سے ضرب لگا رہے تھے اور وہ درد کے مارے چیخے جا رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مجھے پتا تھا کہ ماما ’سین‘ کا مطلب عصمت فروشی کے اڈے کی سربراہ ہے

میرے امریکہ پہنچنے کے چند گھنٹے بعد ہی مجھے زبردستی جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کیا گیا۔ میں خوف زدہ تھی لیکن زندہ رہنے کا جذبہ تھا اور اس دن جب میں نے اس لڑکی کو مار کھاتے ہوئے دیکھا تو مجھے پتا چل گیا تھا کہ مجھے وہ ہی کرنا ہو گا جو وہ مجھے کرنے کو کہیں گے۔

اگلے دن جونی واپس آیا اور اس نے بے حد معافیاں مانگیں اور کہا کہ کوئی غلطی ہوئی ہو گی۔ اس نے کہا کہ یونیفارم خریدنے کے بعد ’شکاگو‘ لے جا کر ہوٹل میں کام شروع ہو جائے گا۔ پچھلے دن کے ڈراؤنے واقعہ کے بعد وہ مجھے بالکل فرشتہ لگ رہا تھا۔

لیکن وہ مجھے یونیفارم کے دکان پر نہیں لے کر گئے اس کے بجائے عورتوں کے لباس کی ایک ایسی دکان پر لے گئے جہاں ایسی چیزیں تھیں جو میں نے کبھی دیکھی بھی نہیں تھی۔ اس وقت میں نے سوچا کہ مجھے یہاں سے فرار ہونا چاہیے لیکن جو ہمارے ساتھ آدمی آیا ہواتھا اس کی نطر مجھ پر تھی اور میں امریکہ میں کسی کو جانتی بھی نہیں تھی اس لیے میں وہیں کھڑی رہی۔

دن اور رات میں شراب پیتی تھی کیونکہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ امریکہ میں نلکے سے پانی پی سکتے ہیں۔ ہمیں اکثر نشہ کرنے پر بھی مجبور کیا جا تا تھا اور شاید اسی سے سب کچھ برداشت کیا جا سکتا تھا۔ سارے غیر قانونی کاروبار کرنے والے یا تو انڈونیشیا، ملیشیا، چین سے یا پھر امریکن تھے ان میں سے زیادہ تر کو انگریزی بولنا نہیں آتی لیکن ایک چیز دیکھ کہ میں بہت بوکھلائی ۔ ان مردوں میں سے ایک نے پولیں افسر کا بیج لگایا ہوا تھا اور آج تک مجھے یہ نہیں معلوم ہوا کہ کیا وہ اصلی پولیسں افسر تھا یا نہیں۔

ساری لڑکیوں کے ساتھ بہت بد سلوکی کی جاتی تھیں، میں ہر وقت فرار ہونے کے بارے میں سوچتی تھی لیکن بھاگ جانے کے بہت کم مواقع نظر آتے تھے۔ ایک دن مجھے وہیں لے جایا گیا جہاں امریکہ پہنچنے کے پہلے دن بروکلین میں لےجایا گیا تھا۔ وہاں ایک لڑکی تھی جس نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا اور کہا کہ اگر کبھی ہم یہاں سے فرار ہوئے تو ایک آدمی ہماری مدد کر پائے گا اور ہمیں صحیح نوکری دلائے گا جس سے ہم پیسے جمع کر کے واپس گھر جا سکیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آخری ڈرایور کے پاس بندوق تھی اور وہ ہمیں’ بروکلین‘ میں ایک گھر میں لے گیا

ایک دن ایک 15 سالا لڑکی ’نینا‘ اور میں نے غسلخانے میں جا کر کہ پانی کو کھولا تاکہ کھڑکیوں کو کھولنے کی آواز نہ آئے اور پھر کھڑکیوں کے پیچوں کو چمچے سے کھولا۔ ہم پھر کھڑکی سے نکل کر فرار ہوئے۔ ہم نے اسی آدمی کو فون کیا جس کا ہمیں اس عورت نے بتایا ہوا تھا لیکن وہ بھی غیر قانونی کام کرنے والا تھا اور دوبارہ مجھے فرار ہونا پڑا لیکن اس دفعہ نینا کو اس آدمی نے پکڑ لیا تھا۔

میں پولیس سٹیشن پہنچی لیکن وہاں کسی نے میری نہیں سنی میں انڈونیشیاکے سفارت خانے بھی گئی اور وہاں بھی کسی نے میری نہیں سنی۔آخرکار میں سڑکوں پہ لوگوں سے کھانا مانگتی پھری اور جو میری سنتا میں اسے اپنی کہانی سناتی اور میں نے سب کو بتایا کہ نزدیک پاس ایک گھر میں عورتیں قید ہیں اور انھیں بچانے کی ضرورت ہے۔

پھر ایک دن ولیمزبرگ میں گرینڈ فیری پارک میں ایڈی نامی آدمی نے مجھے کھانا دلوایا اور انھیں اپنی کہانی سنانے کے بعد انھوں نے کہا کہ کل کے روز مجھ سے اسی جگہ پہ ملنا۔ اگلے دن انھوں نے بتایا کہ ان کی ایف بی آئی سے بات ہوئی اور ہمیں فوراً سٹیشن جانا ہے۔ مجھے بروکلین جا کر عصمت فروشی کے گھر کی نشاندہی کرنی پڑی جس کے بعد انھوں نے ایک خفیہ آپریشن کیا اور تین عورتوں کو جس میں نینا بھی موجود تھی وہاں سے نکال لیا۔

آپریشن کے بعد ایف بی آئی نے میرا نیو یارک میں ’سیف ہورائزن ‘ نامی ادارے سے رابطہ کروایا جو تشدد اور انسانی سمگلنک میں بچ جانے والے لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ میں واپس انڈونیشیا جا سکتی تھی لیکن جن لوگوں نے ہمیں سمگل کیا تھا انھیں گرفتار کرنے کے لیے ایف بی آئی کو مجھ سے کافی معلومات کی ضرورت تھی۔

اس کے ساتھ ساتھ انڈونیشیا میں سمگلرز میرے گھر پہنچ گئے اور میرے خاندان والوں کو ڈرانے کی کوشش کی۔ میری بیٹی کی جان کو خطرہ تھا اور آخر کار 2004 میں امریکی حکومت اور سیف ہورائزن کی مدد سے میری بیٹی کو امریکہ لایا گیا۔ اس سب کچھ ہونے کے بعد بھی مجھے ذہنی سکون نہیں ملا اور اس واقعہ کے 15 سال بعد بھی کھبی کبار پوری پوری رات نیند نہیں آتی۔ ڈپریشن کے علاج کے لیے دوا بھی لیتی رہی ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty images
Image caption ہر سال 17000 سے 19000 لوگوں کو غیر قانونی طور پر امریکہ لایا جاتا ہے۔

اب میں اپنے جیسے دوسرے لوگوں کی مدد کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہوں۔ میں نے ’مینتاری‘ نامی ادارہ کھولا ہے جو متاثرہ لوگوں کو کام دلواتے ہیں تاکہ وہ دوبارہ معاشرے کا حصہ بن سکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ میں اس موضوع پر آگاہی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہوں خاص طور پر ان لوگوں کہ لیے جو سمجھتے ہیں کہ امریکہ کوئی خوابوں کا جزیرہ ہے۔ ہر سال 17000 سے 19000 لوگوں کو غیر قانونی طور پر امریکہ لایا جاتا ہے۔

پچھلے سال انڈونیشیا میں آگاہی کے لیے کارٹون رسالے بھی بنائے ہیں۔ لیکن صرف عورتیں ہی اس غیر قانونی عمل کا نشانہ نہیں بنتیں اس میں مرد بھی شامل ہیں میں نے میں پڑھی لکھی ہوں اور مجھے کالج جانے کا خواب تھا۔ میں نے اپنی کہانی اور آزمائش کے بارے میں سکولوں یونیورسٹیوں اور گرجا گھروں میں بات کی ہے۔

میں نے امریکی حکومت کے ساتھ بھی بات چیت کی ہے کہ بیرون ممالک سے آنے والے لوگ جو کام کے لیے آتے ہیں ان کے حوالے سے پالیسیوں کو بدل بدلیں اور مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ پالیسی کو بدل دیا گیا ہے۔ اب بھرتیاں کرنے والے اداروں کو بھی ’ڈیپارٹمنٹ آف لیبر‘ کے ساتھ رجسٹر کرنے کی ضرورت ہے ۔

جب یہ سب کچھ ہو چکا تو میں نے ایڈی کو شکریہ ادا کرنے کے لیے فون کیا لیکن انھوں نے مجھے کہا کہ خبردار جو میرا شکر ادا کیا کیونکہ آپ کی ساری محنت ہے لیکن آج بھی میں ایڈی کو کہتی ہوں کہ اس دن پارک میں میری داستان سننے کے لیے آپ کا شکریہ اور مجھے نئی زندگی شروع کرنے کا موقع دینے کے لیے شکریہ۔

اسی بارے میں