’بچوں سے زیادتی‘سے پاکستانی کمیونٹی متاثر

Image caption ہم سب کو ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے، بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے لوگ: نصرت حیدر

انگلینڈ کے یارک شائر ضلعے کے شہر روتھرہیم میں بڑے پیمانے پر بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پر مبنی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اس شہر کے بارے میں کئی لوگوں کے خیالات میں تبدیلی آئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس علاقے کے رہائشیوں نے کیسے اس صورت حال کا سامنا کیا ہے؟

روتھرہیم میں اپنے گھر کے باہر اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے نصرت حیدر کہتی ہیں: ’ہم نے بہت تشدد دیکھا ہے، نسلی تعصب پر مبنی بہت سے حملے۔ میں اپنے بچوں کے بارے میں بہت فکرمند ہوں۔‘

نصرت حیدر کے پانچ بچے ہیں جن میں سوتیلے بچے بھی شامل ہیں۔ بچوں کی عمریں سات ماہ سے 13 سال کے درمیان ہیں۔

سنہ 2014 کی ایک رپورٹ کے مطابق روتھرہیم میں سنہ 1997 سے سنہ 2013 کے دوران کم از کم 1400 بچوں کو بدترین جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ جنسی استحصال کرنے والے زیادہ تر مرد پاکستانی نژاد تھے۔

حیدر سمجھتی ہیں کہ ان انکشافات کے باعث ایشیا سے تعلق رکھنے والے افراد کوبہت نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہم سب کو ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے، یعنی بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے لوگ۔

’میں چاہتی ہوں کہ ہمارے بچے جب باہر نکلیں تو وہ خود کو محفوظ تصور کریں، اپنی وراثت پر فخر کریں اور خود کو روتھرہیم کا حصہ سمجھیں۔ میں چاہتی ہوں وہ لوگوں میں گھلیں ملیں، لیکن فی الحال ایسا ممکن نہیں رہا۔‘

Image caption جیسی لونگ کہتی ہے کہ انھیں رات میں اکیلے باہر نکلنے سے ڈر لگتا ہے۔

حیدر پانچ سال کی عمر سےجنوبی یارک شائر میں رہائش پذیر ہیں۔ اس علاقے میں پہلے وہ فخریہ طور پر رہتی تھیں، تاہم اب ایسا نہیں ہے۔

حال ہی میں انھوں نے محسوس کیا ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے مسئلے کے بارے میں بچوں کو آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ خود ان کے ایسے کسی واقعے سے متاثر ہونے کے امکانات کم سے کم ہو جائیں۔ یہ ان کے لیے مشکل فیصلہ تھا۔

وہ کہتی ہیں: ’یہ وہ گفتگو ہے جو آپ 15 یا 16 سال کے بچوں کے ساتھ کر سکتے ہیں، یہ ایسی بات نہیں جس کے بارے میں آپ دس یا 11 سال کے بچوں کو بتائیں۔ یہ ان بچوں سے ان کی معصومیت چھیننے کے مترادف ہے۔‘

روتھرہیم میں رقص کی استانی 20 سالہ جیسی لونگ بھی اس حوالے سے محتاط رویہ رکھنے کی ضرورت محسوس کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’جب بچے یہاں (رقص سکول میں) آتے ہیں تو میں دروازے پر موجود رہتی ہوں۔ میں اس بات کو بھی یقینی بناتی ہوں کہ واپسی میں وہ اپنے والدین کے ساتھ ہی گھر جائیں۔ میں اس خیال کے ساتھ انھیں کبھی بھی اکیلے جانے نہیں دے سکتی کہ وہ حفاظت سے گھر پہنچ ہی جائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جب ہم سکول جاتے تھے تو ہم باغ میں جاتے تھے اور رات کے نو اور دس بجے تک باہر بھی رہتے تھے۔ جبکہ اب میں بچوں سے کہتی ہوں کہ اندھیرا ہونے کے بعد وہ باہر نہ نکلیں، کہتی ہوں یہ مت کرو، وہ مت کرو۔‘

زیادتی کی خبریں سامنے آنے کے بعد سے ان کے لیے لوگوں پر اعتبار کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ وہ کہتی ہیں ’آپ نہیں جانتے کہ (حملہ آور) کون ہیں، آپ کو نہیں معلوم وہ دیکھنے میں وہ کیسے لگتے ہیں۔

’بہت سی چیزیں ہیں جو اب میں بالکل مختلف انداز سے کرتی ہوں۔ جب میں رات میں اپنے دوستوں کے ساتھ باہر نکلتی ہوں تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ واپسی کے لیے ہم ٹیکسی کرائے پر لیں، خاص طور پر اگر ہم اکیلے ہیں تو۔‘

سنہ 2014 میں سامنے آنے والی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں کی نقل و حرکت میں ٹیکسی چلانے والے افراد کا کردار بہت اہم تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکسی ڈرائیور خادم حسین کو نہ صرف اپنے کاروبار میں نقصان ہوا بلکہ انھیں دوسروں کے غلط کاموں کے لیے جوابدہ بھی ہونا پڑتا ہے۔

Image caption آپ نہیں جانتے کہ ٹیکسی میں بیٹھنے والے افراد آپ کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں: ٹیکسی ڈرائیور خادم حسین

خادم حسین کہتے ہیں ’آپ نہیں جانتے کہ ٹیکسی میں بیٹھنے والے افراد آپ کے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ آپ سے سوال کرتے ہیں، آپ کی رائے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان باتوں نے مجھے بہت متاثر کیا ہے۔‘

حسین اس بات سے پریشان ہیں کہ لوگ ان کی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے گھبراہٹ کا شکار ہوتے ہیں، بلکہ خوفزدہ بھی ہوتے ہیں۔ جبکہ وہ گذشتہ 25 سالوں سے اس شعبے سے وابستہ ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’اصل میں تو کسی بھی دوسرے شخص کی طرح ہم بھی زندگی گزارنے کے لیے روزی کما رہے ہیں۔‘

دوسری جانب کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ شہر آہستہ آہستہ ساتھ غم و غصے کی کیفیت سے نکل کر واپس اپنے اصل ماحول کی جانب لوٹ رہا ہے۔

تحائف کی دکان کی مالک شارلٹ سکودرن سمجھتی ہیں کہ علاقے کے لوگ اب تسلیم کرنے کے مرحلے تک پہنچ گئے ہیں۔ اب ان کی توجہ کا مرکز یہ ہے کہ ’اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہرایک کو انصاف ملے، اور یہ کہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔‘

سکودرن کے کاروبار کو بِریٹن فرسٹ (سب سے پہلے برطانیہ) جیسی تنظیموں کی جانب سے کیے جانے والے احتجاجی مظاہروں کے باعث نقصان کا سامنا رہا ہے۔

وہ کہتی ہیں مظاہروں کے دوران سڑکیں بند کرنے سے چھوٹے کاروبار والے لوگوں کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم وہ اس بات پہ زور دیتی ہیں کہ وہ نہیں چاہیں گی کہ وہ کہیں اور جا کے رہائش اختیار کریں۔

سکودرن کہتی ہیں ’کہیں اور آپ کو مزید دوستانہ شہر نہیں ملے گا، اور میرے خیال میں یہ ایسی بات ہے جسے ہم نظرانداز نہیں کر سکتے۔‘

’ایسے چند لوگ جنھوں نے ہمیں نقصان پہنچایا ہے ہم انھیں اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ ہماری ترجمانی کریں اور ہماری زندگیوں پہ حاوی ہوں۔‘

اسی بارے میں