جرائم کے خاتمے کے لیے بلیوں کا استعمال

Image caption ڈرہم کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ وہ ایک خاص نسل کی بلّی کو استعمال میں لانے کا ارادہ کر رہے ہیں

برطانیہ کے مغربی علاقے ڈرہم کی پولیس کا کہنا ہے کہ ممکن ہے ان کا ادارہ ملک کا وہ سب سے پہلا ادارہ ہو جوجرائم کے خاتمے کے لیے بلّیوں کا استعمال کرے-

ڈرہم سے تعلق رکھنے والی ایک پانچ سالہ بچّی نے ڈرہم پولیس کے چیف مائیک بارٹن کو خط لکھا-

الیزا ایڈم سن ہوپر نامی اس لڑکی نے لکھا کہ بلّیاں حساس سماعت کی وجہ سے خطروں کو محسوس کرنے کے لے بہت کام میں لائی جا سکتی ہیں اور اس کے علاوہ اگر کوئی درخت پر پھنس جائے تو اسے اٌتارنے میں بھی مدد کر سکتی ہیں-

کچھ عرصے بعد الیزا کے خط کا جواب آیا جس میں لکھا تھا کہ ہم نے آپ کی تجویز اپنے انسپکٹر تک پنہچا دیں گے-

اب ڈرہم کی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ وہ ایک خاص نسل کی بلّی کو استعمال میں لانے کا ارادہ کر رہے ہیں لیکن ابھی اس بات کا تعّین نہیں کہ آیا ان بلیّوں کو کس کام میں لایا جائے گا؟

کتّوں کی سپورٹ یونٹ کے سربراہ انسپکٹر رچی ایلن کا کہنا ہے ’میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ ہماری پولیس فورس بلیّوں کو بھرتی کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے جوکہ برطانیہ میں اس نوعیت کی سب سے پہلی فوج ہوگی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ابھی تک یہ طے نہیں پایا ہے کہ بلیّوں کی اس فوج سے کیا کام لیا جائےگا لیکن یہ ضرور ہے کہ یہ بہت اچھا شگون ہوگا-

ان کا کہنا تھا ’اگرسونگھنے سے بلّی کو چوہا مل گیا تو ہم چاہیں گے کہ وہ اسے بھی پکڑ لے۔‘

اسی بارے میں