صومالیہ میں الشباب کے رہنما پر امریکی ڈرون حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption الشباب صومالیہ میں کٹر اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتی ہے

امریکی فوج نے صومالیہ میں شدت پسند گروہ الشباب پر ایک اور ڈرون حملہ کیا ہے۔ امریکی محمکمہ دفاع کے مطابق ڈرون حملے میں شدت پسندوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

پینٹاگان کے ترجمان کے مطابق اس حملے کا اصل نشانہ الشباب کے رہنما حسن علی دھور تھے۔ حسن پر حالیہ عرصے میں صومالیہ کے دارالحکومت موگا دیشو پر ہونے والے بم حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ حسن اس حملے میں مارے گئے ہیں یا نہیں۔

پینٹاگان کے ترجمان کے مطابق حسن الشباب کے اہم رہنما ہیں اور ان کے مارے جان سے الشباب کو شدید دھچکہ پہنچے گا۔

یاد رہے کہ حال ہی میں امریکی فو ج کی جانب سے کیے جانے والے ایک ڈرون حملے میں شدت پسند گروہ الشباب کے 150 سے زیادہ جنگجو مارے گئے تھے۔

حملے کے بارے میں امریکی فوج کا کہنا تھا کہ اس میں گروہ کے ایک تربیتی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں شدت پسند جمع ہو کر بڑے حملے کی منصوبے بندی کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ الشباب صومالیہ میں کٹر اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتی ہے۔

اسے سنہ 2011 میں دارالحکومت موغادیشو سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا گیا تھا تاہم اب بھی اسے صومالیہ کے جنوبی علاقوں میں کنٹرول حاصل ہے، جہاں سے وہ ملک بھر میں حملے کرتے ہیں۔

الشباب صومالیہ کے ہمسایہ ملک کینیا میں بھی متعد کارروائیاں کر کے سینکڑوں افراد کو ہلاک کر چکی ہے۔

رواں برس میں اب تک اس تنظیم نے صومالیہ اور کینیا میں چار بڑے حملے کیے ہیں جن میں تقریباً ڈھائی سو افراد ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں