آذربائیجان اور آرمینیا میں جھڑپیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ناگورنو اور قرہباخ کے متنازع خطے میں جاری جنگی جھڑپوں کو ختم کرنے پر زور دیا ہے۔

آذربائیجان کا کہنا ہے کہ ناگورنو اور قرہباخ میں ہونے والی جھڑپوں میں اس کے 12 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

ناگورنو اور قرہباخ میں جاری جھڑپوں میں ٹینکوں، توپ خانے اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال کیا گیا۔

یہ جھڑپیں سنیچر کی صبح سویرے ہوئیں۔

آذربائیجان اور آرمینیا نے ایک دوسرے پر ان جھڑپوں کا الزام عائد کیا ہے۔

ٹی وی پر دکھائی جانے والے مناظر میں فائرنگ اور گولہ باری کے باعث ایک جلی ہوئی گاڑی کو دیکھا جا سکتا ہے۔

آرمینیا کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ آذربائیجان نے ان جھڑپوں میں ٹینکوں، توپ خانے اور فضائی طاقت کا استعمال کیا۔

دوسری جانب آذربائیجان نے اپنے ایک ہیلی کاپٹر کے تباہ ہونے کی تردید کی ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 1994 میں ختم ہونے والی جنگ کے بعد ناگورنو قرہباغ کا انتظام آرمینیا کے ہاتھوں میں ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے آرمینیا کی وزارتِ دفاع کے حوالے سے کہا ہے کہ آذربائیجان کی افواج نے ’اہم پوزیشنوں پر‘ قبضہ کرنے کی کوشش کی جبکہ آرمینیا کی فوج نے آذربائیجان کا ایک ہیلی کاپٹر مارگرایا جس کی آذربائیجان نے تردید کی ہے۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان سنہ 1980 کی دہائی کے آخر میں لڑائی شروع ہوئی تھی جو کہ سنہ 1991 میں مکمل جنگ کی شکل اختیار کر گئی تھی۔

سنہ 1994 میں ہونے والی جنگ بندی سے پہلے اس لڑائی میں ایک اندازے کے مطابق 30,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ خطہ آذربائیجان کی حدود کے اندر ہے تاہم اسے نسلی آرمینیوں کی جانب سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں