علویوں کا شامی صدر سے فاصلہ اختیار کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption علویوں کو شامی صدر بشار الاسد اور ان کے والد حافظ کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے

بی بی سی کو حاصل ہونے والی ایک دستاویز کے مطابق شامی صدر بشار الاسد کے علوی دھڑے کے رہنماؤں نے ایک انتہائی غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے بشار الاسد کی حکومت سے دوری اختیار کرنے کا کہا ہے۔

اس دستاویز میں انھوں نے ملک میں جاری خانہ جنگی کے پانچ سال بعد کے مستقبل کا نقشہ بھی کھینچا ہے۔

اس برداری اور مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ’ایک لمبے عرصے خلوت میں رہنے کے بعد وہ امید کرتے ہیں کہ اس سے ایک شمع روشن ہو سکے گی جو ان کہ تاریخ میں ایک اہم لمحہ ہے۔‘

آٹھ صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں انھوں نے ’شناخت کے قیام کی اصلاحات‘ کی اصطلاح کا استعمال کیا ہے۔ علوی برادری کا کہنا ہے کہ وہ ’اسلام اور اسلام میں تیسرے ماڈل کی ترجمانی کرتے ہیں۔‘

اس تحریر کے پیچھے موجود افراد کا کہنا ہے کہ ’علوی شیعہ اسلام کی شاخ کا حصہ نہیں ہیں، جیسا کہ انھیں ماضی میں شیعہ علما کے طور پر پیش کیا گیا اور یہ کہ وہ فرقہ ورانہ لڑائی میں شامل رہے ہیں۔‘

انھوں نے اس بات کو بھی واضح کیا کے وہ برابری کی اقدار، خو د مختاری اور شہریت کے ساتھ ہیں اور انھوں نے سیکولرزم کو شام کا مستقبل کہا۔

انھوں نے ایک ایسے نظام کا کہا ہے جس میں اسلام، عسائیت اور دیگر مذاہب برابر ہوں۔

شام کے صدر بشار الاسد اور ان کے مرحوم والد حافظ الاسد کے دورے حکومت اور سکیورٹی سروسز میں چار دہائیوں سے زائد تک غالب رہنےکے باوجود علوی برادری نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ’صدر بشار الاسد کی حکومت کو جمہوریت اور بنیادی حقوق کے تحت ہی جائز تسلیم کیا جانا چاہیے۔‘

علوی برادری دسویں صدی میں عراق میں ابھر کر سامنے آئی تھی۔

اس وقت ان کے عقائد اور اعمال کے بارے میں بہت کم ہی معلوم ہو سکا تھا کیونکہ ان رہنماؤں کے مطابق کسی بھی قسم کے ایذا سے بچنے کے لیے انھیں چھپ کر رہنا پڑتا تھا۔ تاہم زیادہ تر ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا نام ’علوی‘ شعیوں کے پہلے امام علی کی تعظیم کی وجہ سے ان کے ساتھ منسوب ہے اور وہ انھیں کے پیروکار ہیں۔

شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دو علوی قائدین نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے شناخت کے بارے میں بیان میں ذکر اس لیے کیا ہے کیونکہ بہت سے علوی صرف ان کے عقیدے کی وجہ سے مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں