شامی فورسز نے ایک اور شہر پر قبضہ حاصل کر لیا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption شامی شہر ال قریاتین گذشتہ آٹھ ماہ سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ تھا

شام کی افواج نے نام نہاد دولت اسلامیہ کو شکست دے کر مرکزی شہر القریاتین پر دوبارہ قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق شہر پر دوبارہ قبضہ مسلح گروہ کے خلاف جاری با ضابطہ کارروائی کے دوران کیا گیا ہے۔

چند روز قبل ہی نزدیکی قدیم شہر پیلمائرا کو بھی شدت پسند دولت اسلامیہ سے چھڑوایا گیا تھا۔

دولت اسلامیہ نے القریاتین پر گذشتہ سال اگست میں قبضہ کیا تھا اور وہاں کی مسیحی آبادی کو یرغمال بنا لیا تھا۔ تاہم بعد میں کئی افراد کو رہا کر دیا گیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ شہر میں اب بھی چند مقامات پر لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کے ادارے سِیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے اتوار کو کہا ہے کہ شہر کے مشرقی حصوں میں دولت اسلامیہ کے جنگجو موجود ہیں تاہم وہ اب پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

القریاتین پر دوبارہ حکومتی قبضہ یقینی ہونے کی صورت میں یہ شام کے صدر بشار الاسد کے لیے اہم کامیابی ہوگی۔ حالیہ مہینوں میں بشار الاسد کی افواج نے روسی فضائیہ کی مدد سے باغیوں کے خلاف کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ شہر پر مکمل قبضے کی صورت حکومتی افواج اور ان کے اتحادیوں کو عراقی سرحد کے نزدیک دولت اسلامیہ پر حملوں کے لیے ایک اہم علاقہ مل جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مبصرین کا کہنا ہے کہ شہر میں اب بھی چند مقامات پر لڑائی کا سلسلہ جاری ہے

شام کی فوج کے ایک جنرل کا کہنا ہے کہ فوج نے ’القریاتین اور اس کے اطراف پر نہ صرف قبضہ کر لیا ہے بلکہ وہاں صورت حال مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ مغرب میں قلاماؤن پہاڑیوں کے سلسلے اور مشرقی علاقوں کے درمیان شدت پسندوں کی سپلائی لائن بھی کاٹ سکیں گے۔

القریاتین، پیلمائرا سے 80 کلومیٹر کے فاصلے پر مغرب کی سمت واقع ہے۔ گذشتہ سال مئی میں پیلمائرا پر شدت پسندوں کے قبضے کے بعد القریاتین پر قبضہ ان کا پہلا بڑا حملہ تھا۔

القریاتین میں عیسائیوں کی بڑی تعداد آباد تھی جن میں سے کئی افراد وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے جبکہ درجنوں افراد کو دولت اسلامیہ کے دارالحکومت رقّہ منتقل کر دیا گیا تھا۔ تاہم اطلاعات کے مطابق انھیں چند ہفتوں بعد رہا کر دیا گیا تھا۔

گذشتہ ماہ ہونے والی جزوی جنگ بندی کے بعد شام میں لڑائی میں ڈرامائی کمی آئی ہے، جبکہ دولت اسلامیہ اور القاعدہ سے منسلک نصرہ فرنٹ اس جنگ بندی کا حصہ نہیں ہیں۔

اسی بارے میں