گوانتاناموبے جیل: لیبیا کے دو قیدی سینیگال منتقل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر باراک اوباما نے کانگریس کو گوانتانامو بند کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے لیکن اس کی کڑی مخالفت کی جا رہی ہے

امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ گوانتاناموبے جیل میں قید لیبا سے تعلق رکھنے والے دو قیدیوں کو رہائی کے بعد سینیگال منتقل کر دیا گیا ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ابو سلام غربی اور عمر خالف محمد ابو بکر اُن درجنوں قیدیوں میں سے ایک ہیں جنھیں کسی دوسرے مقام پر آباد کیا جائے گا۔

ان دونوں قیدیوں کی منتقلی کا مطلب ہے کہ اب گوانتانامو میں89 قیدی باقی رہ گئے ہیں ۔ صدر باراک اوباما نے کانگریس کو گوانتاناموبے جیل بند کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے لیکن انھیں اس معاملے پر سخت مخالفت کا سامنا ہے۔

امریکہ کے سیکریٹری خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ ’ ہم وہ سارے اقدامات کر رہے ہیں جن سے گوانتاناموبے میں قیدیوں کی تعداد میں کمی آئے گی تاکہ اس قید خانے کو ذمہ دارانہ طریقے سے بند کرتے ہوئے ہم اپنی قومی سکیورٹی کو بھی برقرار رکھ سکیں۔‘

ان افراد کی سینیگال منتقلی سنہ 2009 کے صدراتی حکم نامے کے تحت ہوئی ہے ۔ امریکہ کی سکیورٹی سروسز کے مطابق انھیں اب قید رکھنا ضروری نہیں تھا۔

صدر براک اوباما نے سنہ 2009 میں گوانتانامو بے جیل کو بند کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اُن کی خواہش تھی کہ جیل میں قید سارے قیدیوں کو اُن کے ملک واپس بھیجوا دیا جائے یا پھر امریکہ کی جیلوں میں منتقل کر دیا جائے۔

صدر اوباما نے رواں سال فروری میں کہا تھا کہ یہ قید خانہ امریکی قدروں اور اقدار کا متصادم ہے لیکن کانگریس دہشت گردی میں ملوث مشتبہ افراد کو امریکہ میں قید کرنے کی سخت مخالف ہے۔

سنہ 2002 سے 780 قید گوانتاناموبے جیل میں قید ہیں۔ جن میں اکثریت کے خلاف مقدمات نہیں چلائے جا سکیں ہیں۔

گوانتاناموبے جیل سے رہا ہونے والے سو قیدیوں کو اب تک 26 مختلف ممالک میں بسایا گیا ہے۔

اسی بارے میں