امریکہ پاکستان کو نو اٹیک ہیلی کاپٹر فراہم کرے گا

تصویر کے کاپی رائٹ USDOD

امریکہ محکمہ دفاع کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو نو اے ایچ ون زیڈ وائپر اٹیک ہیلی کاپٹر فراہم کیے جائیں گے اور ان ہیلی کاپٹروں کو تیار کرنے پر 17 کروڑ ڈالر لاگت آئے گی۔

امریکی محکمہ دفاع نے اے ایچ ون زیڈ وائپر اٹیک ہیلی کاپٹروں کی بہتری کے لیے بیل ہیلی کاپٹر کمپنی کو ٹھیکہ دیا ہے۔ توقع ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر ستمبر 2018 تک مہیا کر دیے جائیں گے۔

امریکی محکمۂ دفاع کے ایک بیان کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر پاکستان کو فارن ملٹری سیلز پروگرام کے تحت دے جائیں گے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق بیل اے ایچ ون زیڈ دو انجنوں پر مشتمل ہیلی کاپٹر ہے جو ماضی کے سپر کوبرا ماڈل کو دیکھ کر تیار کیا گیا ہے۔

اس سے قبل گذشتہ برس امریکی وزارتِ خارجہ نے ان 952 ملین ڈالرز مالیت کے ہیلی کاپٹروں، ہیل فائر میزائل اور متعلقہ آلات اور حصے پاکستان کو فراہم کرنے کی منظوری دی تھی۔

واضح رہے کہ یہ انتہائی تیز رفتار ہیلی کاپٹرز شمار ہوتے ہیں۔

بیل ہیلی کاپٹرز کی ویب سائٹ پر موجود اعداد و شمار کے مطابق یہ 400 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے۔

ان ہیلی کاپٹرز میں بھاری میزائل لے جانے اور حملے کی صلاحیت بھی موجود ہے اور یہ 610 کلو میٹر تک ہدف کو نشانہ بنانا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Radio Pakistan

گذشتہ برس اپریل میں امریکی محکمۂ دفاع نے پاکستان کو 15 اے ایچ ون زیڈ ہیلی کاپٹرز فروخت کرنے کی منظوری دی تھی۔

رواں برس کے شروع میں امریکا نے پاکستان کو آٹھ F-16 جنگی طیاروں کی فروخت کی بھی منظوری دی تھی۔ ان طیاروں کی مالیت 700 ملین ڈالرز ہے۔

واضح رہے کہ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سِپری) کی حالیہ دنوں میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان 2015 میں دنیا کے سب سے زیادہ اسلحہ درآمد کرنے والے ممالک کی فہرست میں نویں سے دسویں نمبر پر آگیا ہے جبکہ سنہ 2015 میں دنیا کے سب سے زیادہ اسلحہ درآمد کرنے والے ممالک کی فہرست میں سعودی عرب پہلے جبکہ بھارت دوسرے نمبر پر رہا۔

اسی بارے میں