جعلی یونیورسٹی سے امیگریشن فراڈ بے نقاب

Image caption وفاقی ایجنٹس نے ایک جعلی ویب سائٹ بنائی اور منتظمین بن کر مشتبہ افراد سے رابطہ رکھا

امریکی حکام نے ایک جعلی یونیورسٹی کی ویب سائٹ بنا کر امیگریشن فراڈ بے نقاب کیا جس کے بعد 21 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ہوبنے والے ملزمان جانتے تھے کہ شمالی نیو جرسی میں اسی کسی یونیورسٹی کا وجود نہیں ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ سب امیگریشن ایجنٹس کا پھیلایا ہوا جال ہے۔

* بغیر ویزا امریکہ آنے والوں کی جانچ پڑتال میں سختی کا اعلان

حکام کے مطابق گرفتار افراد نے سٹوڈنٹ یا کام کرنے کے لیے ویزے کے حصول کے خواہشمند کم سے کم 1000 غیر ملکیوں کے لیے بروکر کا کام کیا۔

اس منصوبے کے تحت آنے والوں میں زیادہ تر کا تعلق چین اور انڈیا سے تھا۔

امیگریشن حکام ان غیر ملکیوں کا معاملات دیکھیں گے تاہم ان کے خلاف مقدمہ قائم نہیں کیا جائے گا۔

نیو جرسی کے اٹارنی پال فشمین کے مطابق یہ ’پے ٹو سٹے‘ یعنی رقم دے کر رہائش پذیر ہونے کا ایک اور معاملہ ہے۔

وفاقی ایجنٹس نے ایک جعلی ویب سائٹ بنائی اور منتظمین بن کر مشتبہ افراد سے رابطہ رکھا۔

پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ایجنٹس نے ملزمان کی گفتگو ریکارڈ کی جس سے یہ اندازہ ہوا کے ویزے کی طوالات کے لیے رقم دینے کا معاملہ طویل عرصے سے جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نیو جرسی کے اٹارنی پال فشمین کے مطابق یہ ’پے ٹو سٹے‘ یعنی رقم دے کر رہائش پذیر ہونے کا ایک اور معاملہ ہے

اسی بارے میں